.

انقلاب منجمد، مرسی نے خود کو خدائی حاکم بنا لیا البرادعی

'صدارتی فیصلوں سے ملک میں انارکی پھیلنے کا اندیشہ'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصری صدر ڈاکٹر محمد مُرسی کے عدلیہ سے متعلق فیصلوں اور انقلابیوں کے قتل عام کی دوبارہ تحقیقات کے حکم پر مخالف سیاسی حلقوں کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ سابق صدارتی امیداروں ڈاکٹر محمد البرادعی اور عمرو موسیٰ نے صدر مرسی کے فیصلوں پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان سے ملک میں بے چینی پھیلے گی۔



سابق صدارتی امیدوار ڈاکٹر محمد البرادعی نے 'ٹیوٹر' پر صدارتی فیصلوں کے بارے میں اپنا تبصرہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر محمد مرسی کے فیصلوں نے ملک کے ایک آئینی ریاست کے تشخص کو مسخ کر دیا ہے۔ صدر مرسی خود کو عوام کا منتخب نمائندہ ماننے کے بجائے خود کو خدائی حاکم تصور کرنے لگے ہیں۔ البرادعی کا مزید کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے انقلاب کو غیر معینہ مدت تک کے لیے منجمد کر دیا ہے۔



صدر کے فیصلوں پر ردعمل میں ایک اور سرکردہ سیاسی شخصیت اور عرب لیگ کے سابق سیکرٹری جنرل عمرو موسٰی نے کہا ہے کہ ایوان صدر کی جانب سے عدلیہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے ملک میں افراتفری میں اضافہ ہو گا۔



اٹارنی جنرل کے عہدے سے ہٹائے جانے والے ایڈووکیٹ عبدالمجید محمود کا کہنا تھا کہ وہ صدر مرسی کے اقدامات پر اپنا ردعمل جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش کریں گے۔ تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ عدالتی فیصلو ں میں صدارتی مداخلت ناپسندیدہ ہے۔ اس سے ریاستی اداروں میں ٹکراؤ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔



سابق صدارتی امیدوار حمدین الصباحی کا کہنا ہے کہ صدر مملکت جمہوریت مخالف راستے پر چل رہے ہیں اور انہوں نے تمام اختیارات کو اپنی ذات میں سمیٹنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک مشکلات کے گرداب میں گھرا ہوا ہے۔ صدر مسائل کے حل کے بجائے مشکلات کو مزید گھمبیر کر رہے ہیں لیکن میں واضح کر دوں کہ انقلاب مصر میں جمہوریت کو ہائی جیک کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

مرسی کے دورہ پاکستان کی منسوخی کی وجہ؟

صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جانب سے پراسیکیوٹر جنرل کوان کے عہدے سے ہٹانے، سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی بغاوت کی تحریک کے دوران باغیوں کے قتل میں ملوث عناصر کے دوبارہ ٹرائل کے حکم اور قانون ساز کونسل کی مدت میں دو ماہ کی توسیع کےاعلان پر ابلاغی حلقوں میں بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

صحافی جمال فہمی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر محمد مرسی ملک میں فاشزم کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے عدالتوں کے فیصلے اور اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیے ہیں جو ملک میں جمہوریت کے حوالے سے ایک خطرناک علامت ہے۔ ان کا اشارہ اٹارنی جنرل کی برطرفی کی طرف تھا کیونکہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ صدر کو اٹارنی جنرل کو عہدے سے ہٹانے کا آئینی طور پر اختیار نہیں ہے۔ جمال احمد فہمی نے صدر کے فیصلوں پر سخت نکتہ چینی کی اور کہا کہ ڈاکٹر محمد مرسی نے خود کو زمین پر [نعوذ باللہ] خدا بنا لیا ہے اور وہ ریاستی قانون اور آسمانی اصولوں کو بھی پامال کر رہے ہیں۔

اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے مصرکے آئینی امور کے ماہر ڈاکٹر جابر نصار نے کہا کہ صدر محمد مرسی عوام کے منتخب نمائندہ ہیں۔ انہیں مشاورت اور آئین کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔ صدر کے موجودہ فیصلوں اور سابق حکمراں فوجی کونسل کے فیصلوں میں کوئی بڑا فرق دکھائی نہیں دیتا ہے۔

مصر کے ایک دوسرے تجزیہ نگار عماد الدین حسین کا کہنا ہےکہ صدر نے ممکنہ طور پر کچھ ایسے فیصلے کرنا تھے جن پر انہیں ملک بھر میں شدید عوامی اور سیاسی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا، یہی وجہ ہے کہ وہ یہ فیصلے کرنے کے بعد بیرون ملک کسی دورے پر نہیں گئے بلکہ حالات کا سامنا کرنےکے لیے ملک ہی میں رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں ڈی ایٹ ممالک کی سربراہ کانفرنس میں شرکت کرنا تھی لیکن میرا خیال ہے کہ ان کے دورہ پاکستان کی منسوخی کی بنیادی وجہ ملک میں موجود انارکی کی فضاء ہے۔