انقلاب منجمد، مرسی نے خود کو خدائی حاکم بنا لیا البرادعی

'صدارتی فیصلوں سے ملک میں انارکی پھیلنے کا اندیشہ'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جانب سے پراسیکیوٹر جنرل کوان کے عہدے سے ہٹانے، سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی بغاوت کی تحریک کے دوران باغیوں کے قتل میں ملوث عناصر کے دوبارہ ٹرائل کے حکم اور قانون ساز کونسل کی مدت میں دو ماہ کی توسیع کےاعلان پر ابلاغی حلقوں میں بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

صحافی جمال فہمی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر محمد مرسی ملک میں فاشزم کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے عدالتوں کے فیصلے اور اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیے ہیں جو ملک میں جمہوریت کے حوالے سے ایک خطرناک علامت ہے۔ ان کا اشارہ اٹارنی جنرل کی برطرفی کی طرف تھا کیونکہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ صدر کو اٹارنی جنرل کو عہدے سے ہٹانے کا آئینی طور پر اختیار نہیں ہے۔ جمال احمد فہمی نے صدر کے فیصلوں پر سخت نکتہ چینی کی اور کہا کہ ڈاکٹر محمد مرسی نے خود کو زمین پر [نعوذ باللہ] خدا بنا لیا ہے اور وہ ریاستی قانون اور آسمانی اصولوں کو بھی پامال کر رہے ہیں۔

اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے مصرکے آئینی امور کے ماہر ڈاکٹر جابر نصار نے کہا کہ صدر محمد مرسی عوام کے منتخب نمائندہ ہیں۔ انہیں مشاورت اور آئین کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔ صدر کے موجودہ فیصلوں اور سابق حکمراں فوجی کونسل کے فیصلوں میں کوئی بڑا فرق دکھائی نہیں دیتا ہے۔

مصر کے ایک دوسرے تجزیہ نگار عماد الدین حسین کا کہنا ہےکہ صدر نے ممکنہ طور پر کچھ ایسے فیصلے کرنا تھے جن پر انہیں ملک بھر میں شدید عوامی اور سیاسی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا، یہی وجہ ہے کہ وہ یہ فیصلے کرنے کے بعد بیرون ملک کسی دورے پر نہیں گئے بلکہ حالات کا سامنا کرنےکے لیے ملک ہی میں رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں ڈی ایٹ ممالک کی سربراہ کانفرنس میں شرکت کرنا تھی لیکن میرا خیال ہے کہ ان کے دورہ پاکستان کی منسوخی کی بنیادی وجہ ملک میں موجود انارکی کی فضاء ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں