.

سعودی مرد ایس ایم ایس کے ذریعے محارم خواتین کی نگرانی کر سکیں گے

خاتون کے سرحد چھوڑتے ہی ایمیگریشن الرٹ کا اجراء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب میں مواصلاتی ٹکنالوجی کے استعمال کی نت نئی جہتیں روزانہ سامنے آ رہی ہیں۔ ان سہولیات کو مخصوص ملکی حالات سے ہم آہنگ کرنے کی ایک حالیہ کوشش مانیٹرنگ کا ایک جدید نظام ہے۔ اس نظام کے تحت مرد حضرات اپنی 'محارم' کی نقل و حرکت کے بارے میں ہمہ وقت مطلع رہے سکیں گے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تمام ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی سرحدات پر قائم ایمیگریشن دفاتر سے منسلک نظام کسی بھی سعودی خاتون کے بیرون ملک سفر کی اطلاع ان کے محرم کے موبائل فون پر بذریعہ ایس ایم ایس کرے گا۔ اس بات سے قطع نظر کہ خاتون چاہے اپنے محرم کے ساتھ ہی بیرون ملک سفر کر رہی ہو، یہ ایم ایس ایم ایک خودکار الیکٹرانک نظام کے تحت محرم کے موبائل فون پر موصول ہو جاتا ہے۔

سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ کی حامی دوشیزہ منال الشریف نے خواتین مانیٹرنگ کے اس نئے نظام کے بارے میں بذریعہ ٹوئٹر 'آگاہی' مہم ایک ہفتہ قبل شروع کی تھی۔

واضح رہے کہ خواتین ڈرائیونگ پر پابندی اور محرم کی اجازت کے بغیر سفر جیسے اقدامات کے باعث سعودی حکام پہلے ہی تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔ نئے نظام کے تحت بیرون ملک سفر کی خواہشمند خواتین کو ہوائی اڈے پر محرم کا مخصوص فارم پر جاری کردہ تحریری اجازت نامہ دکھانا ہو گا۔

فیصلے کا محرک

سماجی رابطے کی ویب سائٹس 'ٹیوٹر' اور 'فیس بک' پر اس نظام کی حمایت اور مخالفت میں دلائل کا تبادلہ جاری ہے تاہم سعودی روزنامے 'اخبار الیوم' کے مطابق اس پابندی کا محرک ایک واقعہ بتایا جاتا ہے کہ جس میں ایک سعودی خاتون نے مبینہ طور پر ترک اسلام کے بعد عیسائیت اختیار کی اور پھر خاموشی سے لبنان فرار ہو گئی۔

بعد میں یو ٹیوب پر ایک ویڈیو میں اس تیس سالہ خاتون نے عیسائی مذہب اختیار کرنے کی تردید کر دی تھی۔ اخبار 'الیوم' سے گفتگو کرتے خاتون نے بتایا کہ وہ قیامت تک مسلمان رہے گی۔ اس نے کہا کہ بعض گھریلو پریشانیوں کی وجہ سے اس کے لبنانی باس نے اسے مشورہ دیا کہ وہ لبنان جیسے آزاد ملک چلی جائے تو مسائل حل ہو جائیں گے جس پر وہ بیروت چلی گئی۔

اخبار کے مطابق ائرپورٹ سے چند لوگ زبردستی اسے ایک خانقاہ لے گئے جہاں اسے بطور خادمہ کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔ مذکورہ خاتون کے والد کی شکایت پر ایک لبنانی شہری کو سعودی عرب کے شہر 'خبر' کی عدالت نے پیر کے روز جیل بھیج دیا تھا۔