.

صدارتی فرامین کے بعد اقوام متحدہ کو مصر میں انسانی حقوق پر تشویش

صدر مرسی کے حق اور مخالفت میں پُرتشدد مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر نیوی پلے کا کہنا ہے کہ صدر مرسی کے جاری کردہ حالیہ وسیع تر صدارتی فرمان کے بعد مصر میں انسانی حقوق کے بارے میں گہری تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

جنیوا میں مس نیوی پلے کے ترجمان روپرٹ کولویلی نے جمعہ کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''ہمیں اس اعلامیے کے اجراء کے بعد مصر میں انسانی حقوق اور قانون حکمرانی کے حوالے سے گہرے مضمرات کے بارے میں گہری تشویش لاحق ہے۔ ہمیں اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ اس سے آنے والے دنوں میں صورت حال خراب ہو سکتی ہے لیکن درحقیقت اس کا آج جمعہ سے ہی آغاز ہو گیا ہے''۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور دوسرے شہروں میں صدر محمد مرسی کے جاری کردہ صدارتی فرامین کے خلاف ہزاروں افراد احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں اور مختلف شہروں میں صدر کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ مشتعل افراد نے بعض شہروں میں اخوان المسلمون کے دفاتر کو نذر آتش کر دیا ہے۔

مصری صدر نے گذشتہ روز جو فرامین جاری کیے تھے، ان میں ایک میں انھوں نے قرار دیا کہ ''صدر نے عہدہ سنبھالنے کے بعد جو بھی فیصلے کیے، قوانین اور اعلامیے منظور کیے، انھیں عدلیہ سمیت کوئی بھی اتھارٹی منسوخ نہیں کر سکتی اور نہ ان کے خلاف اپیل کر سکتی ہے''۔

انھوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ مصر کی دستور ساز اسمبلی اور پارلیمان کے ایوان بالا شوریٰ کونسل کو عدلیہ سمیت کوئی بھی اتھارٹی تحلیل نہیں کر سکتی۔ صدر مرسی نے دستور ساز اسمبلی کی مدت میں بھی دو ماہ کے لیے توسیع کر دی ہے۔ یہ اسمبلی پانچ دسمبر کو مصر کے نئے دستور کا مسودہ صدر کو پیش کرنے والی تھی لیکن اب اس کی مدت چھے ماہ سے بڑھا کر آٹھ ماہ کر دی گئی ہے۔

ایک اور صدارتی فرمان کے تحت محمد مرسی نے سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران انقلابیوں کی ہلاکتوں میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے دوبارہ ٹرائل کا حکم دیا ہے اور ملک کے پراسیکیوٹر جنرل عبدالمجید محمود کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اور ان کی جگہ طلعت ابراہیم عبداللہ کو ملک کا نیا پراسیکیوٹر جنرل مقرر کیا ہے۔ عبدالمجید محمود نے اپنی برطرفی کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان صدارتی فرامین کو نئے آئینی اعلامیے کا نام دیا جا رہا ہے۔ ان فیصلوں کے اعلان سے قبل انھوں نے اپنے سرکاری ٹویٹر پر پوسٹ کیے گئے بیان میں کہا تھا کہ انھوں نے جو بھی فیصلے کیے ہیں اور مستقبل میں وہ جو فیصلے کریں گے، وہ گذشتہ سال برپا شدہ انقلاب کے مقاصد کو پورا کرنے اور زخمیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے ہیں لیکن ان کے ان فیصلوں کو انقلابیوں ہی نے تسلیم نہیں کیا اور وہ ان کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔