.

گولان پر کشیدگی اسرائیل کو شامی بحران میں الجھانے کی کوشش جارج صبرا

شامی رجیم علاقائی عدم استحکام کا کارڈ کھیلنا چاہتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی حزب اختلاف کے بڑے گروپ شامی قومی کونسل کے سربراہ جارج صبرا کا کہنا ہے کہ مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر کشیدگی اسرائیل کو بحران میں الجھانے کی کوشش ہے۔

انھوں نے یہ بات العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ شامی حکومت کی چیزوں کو پورے علاقے میں پھیلانے کی کوشش کا حصہ ہے۔ اس نے لبنان، ترکی اور اردن کے ساتھ واقع سرحدوں پر بھی ایسی ہی کوششیں کی ہیں۔ یہ گولان کی پہاڑیوں کے ذریعے علاقائی عدم استحکام کا کارڈ کھیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

جارج صبرا نے کہا کہ پوری دنیا یہ بات اچھی طرح جانتی ہے کہ ''شامی رجیم نے گذشتہ چالیس کے دوران گولان کی پہاڑیوں کو آزاد کرانے کے لیے ایک گولی بھی نہیں چلائی۔ اگر اسرائیل اس رجیم کے اقدامات کا جواب دیتا ہے تو پھر پوری دنیا یہ سمجھ جائے گی کہ کون اس حکومت کو تحفظ مہیا کر رہا ہے اور کون اس کے مدمقابل کھڑا ہے''۔

انھوں نے تاریخ کے صفحات پلٹتے ہوئے کہا کہ ہر کسی کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ حافظ الاسد کی حکومت کیسے لبنان میں داخل ہوئی تھی اور یہ سب کچھ کیسے امریکا اور اسرائیل کی آشیرباد سے ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شامی عوام اور ان کے انقلاب کو گولان کی پہاڑیوں کو تمام قانونی طریقوں سے بچانے کے لیے سخت محنت کرنا ہو گی۔

محفوظ راستہ

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے شامی صدر بشار الاسد کو محفوظ راستہ دینے سے متعلق بیان کے حوالے سے جارج صبرا کا کہنا تھا کہ ''میں ذاتی طور پر بشار الاسد کو ملزموں کے پنجرے میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ ان کے خلاف شامی عوام خود مقدمہ چلائیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''صرف بشار الاسد کی ذاتی طور پر رخصتی ہمارا مطمح نظر نہیں ہے بلکہ ہم ان کے ساتھ ان کے رجیم اور اس کے ستونوں کی رخصتی بھی چاہتے ہیں''۔

شامی قومی کونسل کے سربراہ نے واضح کیا کہ عوام اسد رجیم کے ساتھ کسی بھی طرح کے مذاکرات نہیں چاہتے ہیں۔ یہ ایک اٹل فیصلہ ہے اور اس کو کوئی بھی تبدیل نہیں کر سکتا۔

شامی قومی اتحاد کے سربراہ احمد معاذ الخطیب کے شامی حزب اختلاف کے روس سے مذاکرات نہ کرنے کے فیصلے کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ''عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات سیاسی اقدام کا حصہ ہیں اور اگر سیاست بات چیت کے بغیر ہو گی تو پھر باقی کیا بچے گا؟''

تاہم پڑوسی ملک ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ''وہ جب تک صدر بشار الاسد کا ساتھ نہیں چھوڑ دیتا اور اپنے موقف میں تبدیلی نہیں لاتا، اس وقت تک اس کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی''۔

البتہ ان کا کہنا تھا کہ ہم ایران کو اپنا دشمن ملک ہونے کی نظر سے نہیں دیکھتے لیکن بدقسمتی سے ایرانی رجیم شامی عوام کو اپنا دشمن خیال کرتا ہے۔ ہم عرب دنیا کا حصہ ہیں اور عرب سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ بنانا چاہتے ہیں کیونکہ ایک جابر حکومت کی کارروائیوں کی وجہ سے ہماری یہ حیثیت ختم ہو چکی ہے۔

حزب اختلاف کو مسلح کیا جانا

شامی قومی کونسل کے سربراہ نے شکایت کی کہ بعض متعلقہ ممالک حزب اختلاف کو مسلح کرنے کے حوالے سے پابندیاں لگا رہے ہیں اور ان قدغنوں کا خطے کو اسلحہ کی برآمد پر عاید پابندی سے تعلق ہے۔ اب اس پابندی کی وجہ سے یہ سوال بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس پابندی کا صرف شامی عوام ہی پر کیوں اطلاق کیا جا رہا ہے اور روس اور ایران سے شامی رجیم کو اسلحے کی ترسیل کیوں بند نہیں کیا جا رہی ہے؟

جارج صبرا کا کہنا تھا کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ حزب اختلاف میں سے کس کو اسلحہ مہیا جائے تو اس کا آسان جواب ہے کہ شام میں ایک مشترکہ فوجی کمان قائم کی جا رہی ہے۔ اس میں تمام باغی فوجی اور انقلابی کونسلیں شامل ہوں گی مگر ہمارے لیے سب سے دکھ والی بات یہ ہے کہ ''ہم اپنے ہی ہتھیاروں کو تباہ کرنے کے مزید اسلحہ طلب کر رہے ہیں۔ شام اور اس کے عوام کا یہ سب سے بڑا المیہ ہے اور شامی حکومت نے اس کی سازش تیار کی ہے''۔