.

ایران کا متنازعہ جزیرے ابو موسیٰ میں سیاحتی مرکز کا قیام

جزیرے کی حفاظت کے لیے میزائل نصب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران نے خلیجی ممالک کے ساتھ متنازعہ جزیرے ابو موسیٰ میں سیاحتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے تیزی سے کام جاری رکھا ہے۔ جزیرے میں سیرگاہ کے قیام کے لیے جاری بعض منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں اور کچھ منصوبوں پر کام پیش آئند چند ہفتوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔

خیال رہے کہ جزیرہ ابو موسیٰ متحدہ عرب امارات اور تہران کے درمیان متنازعہ ہے۔ سنہ 1971ء میں یو اے ای کی ریاست شارجہ اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کی رو سے جزیرے میں کوئی ملک یک طرفہ کسی قسم کی تعمیرات نہیں کر سکے گا بلکہ شارجہ اور ایران دونوں اس جزیرے پر مشترکہ کنٹرول قائم رکھیں گے۔ تاہم ایران نے اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی بلکہ اپنی مرضی کرتے ہوئے وہ جزیرے میں سیاحتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی شہر ہرمزگان میں سیاحت و ثقافت کی نمائندہ تنظیم کے ڈائریکٹر مہدی دریا نور کا کہنا ہے کہ انہوں نے جزیرہ ابو موسیٰ میں کئی سیاحتی منصوبے مکمل کر لیے ہیں اور مزید منصوبوں کو آئندہ ماہ مکمل کر لیا جائے گا۔



ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حکومت نے جزیرہ ابو موسیٰ میں سیاحوں کی آمد ورفت کا سلسلہ رواں سال اپریل سے شروع کر دیا تھا۔ جس کا مقصد عالمی سطح پر یہ باور کرانا تھا کہ جزیرہ ابو موسیٰ ایران کا حصہ ہے اور تہران جس طرح چاہے اسے استعمال کر سکتا ہے۔ تہران حکومت کی جانب سے یہ اعلان بھی سامنے آیا ہے کہ اس سال عالمی ثقافتی کانفرنس برائے خلیج بھی جزیرہ ابو موسیٰ میں منعقد کی جائے گی جس میں عالمی اور علاقائی ماہرین کی بڑی تعداد شریک ہو گی۔



مہدی دریا نور نے نیم خبر رساں ایجنسی '’ایسنا' سے بات کرتےہوئے کہا کہ انہوں نےجزیرے میں ایک ٹور ازم آڈیٹوریم کی تعمیر کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ منصوبہ جلد پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔ ٹور ازم آڈیٹوریم کی تکمیل کے بعد ایران اور دوسرے ملکوں سے ہزاروں سیاح جزیرے کی سیاحت کریں گے اور انہیں وہاں پر ہرقسم کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔



خیال رہے کہ اس سال اپریل میں صدر محمود احمدی نژاد نے جزیرہ ابو موسیٰ کا دورہ کیا تھا جس کے بعد تہران حکومت نے جزیرے کو ایک مثالی سیاحتی مقام بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی تھی۔



ایرانی اثر و نفوذ بڑھانے کی کوشش



جزیرہ ابو موسیٰ سمیت خلیج عرب میں کئی جزیرے ایران اور خلی جی ملکوں کے درمیان متازعہ چلے آ رہے ہیں۔ ایران کے ساحل سے جزیرہ ابو موسیٰ 94 جبکہ شارجہ کے ساحل سے 60 کلومیٹر سمندر میں واقع ہے۔ خلیج عرب کے مشرقی ساحل سے اس کا فاصلہ 72 کلومیٹر بنتا ہے۔ یہ جزیرہ جغرافیائی اعتبار سے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہ تیل کی علاقائی گذرگاہ آبنائے ہرمز کے راستے میں واقع ہے۔



ایران اس جزیرے کو خلیجی ملکوں میں اپنے اثرو نفوذ کو بڑھانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ پچھلے ایک سال کے دوران جزیرے میں ایران کی سیاحتی اور فوجی سرگرمیاں ایک ساتھ دیکھی گئی ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے جزیرے میں ایک بحری فوجی اڈہ بھی قائم کیا ہے۔ اس کے علاوہ دو چھوٹے جزیروں طنب صغریٰ اور طنب کبریٰ میں کم ،درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی نصب کیے ہیں۔



ایران اور شارجہ کے درمیان نومبر 1971ء کو جزیروں کے تنازع کے حل کے لیے ایک سمجھوتہ ہوا تھا۔ اس معاہدے میں فریقین نے اتفاق کیا تھا کہ کوئی بھی ملک ان جزیروں پر اپنی ملکیت کا یک طرفہ دعویٰ نہیں کرے گا اور دونوں اس سے دستبردار ہو جائیں گے۔ البتہ دونوں ملکوں کے فوجی دستے یہاں موجود رہیں گے۔ تاہم ایران نے اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی اور اب وہ جزیرے کے بیشتر حصے پر قابض ہو چکا ہے۔