.

خاتون ٹی وی اینکر کی مبینہ توہین پر اخوان رہنما کے خلاف مقدمہ

ٹرائل، میڈیا ۔ اخوان کشیدگی کا عکاس ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے نائب صدر کے خلاف ہفتے کے روز قاہرہ کی ایک عدالت میں نجی ٹی وی کی اینکر کی شہرت کو گزند پہنچانے کے الزام میں مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق عدالت میں فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے رہنما عصیان الریان اور ٹی وی اینکر جیہان منصور کی نمائندگی ان کے وکلاء نے کی۔ نجی ٹی وی 'ڈریم' سے وابستہ خاتون اینکر جیہان منصور نے مقدمے میں الزام لگایا کہ عصیان الریان نے ایک انٹرویو کے دوران ان [جیہان منصور] پر الزام لگایا کہ انہیں اخوان المسلمون پر تنقید کے پیسے دیئے جا رہے ہیں۔

حالیہ مقدمہ امسال جون میں صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے انتخاب کے بعد سے راسخ العقیدہ مسلمانوں اور مصری ذرائع ابلاغ کی اکثریت کے درمیان پائی جانے والی کشیدہ صورتحال کا عکاس ہے۔ اسلام پسندوں پر الزام ہے کہ وہ صدر مرسی کی 'توہین' یا غلط سمجھی جانے والی معلومات نشر کرنے کے مرتکب صحافیوں پر پابندیاں لگا رہے ہیں۔

اخوان المسلمون کے رکن صلاح عبدالمقصود متولی کی بطور وزیر اطلاعات تقرری اور سرکاری ذرائع ابلاغ میں اکھاڑ پچھاڑ سے یہ تاثر گہرا ہوا ہے کہ تنظیم [اخوان] میڈیا کو دباؤ میں لانا چاہتی ہے۔ امسال اگست میں صدر مرسی نے مبینہ میڈیا جرائم کے مرتکب صحافیوں کی سزا معافی کا فرمان جاری کر کے ذرائع ابلاغ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی تھی۔

اس فرمان کے نتیجے میں نسبتاً کم معروف آزاد اخبار'الدستور' کے ایڈٹر اسلام عفیفی کو رہائی ملی۔ ان پر غلط خبریں پھیلا کر امن و امان کی صورتحال پیدا کرنے کا الزام عائد تھا۔ گزشتہ برس فروری میں سابق مرد آہن معزول صدر حسنی مبارک کی اقتدار سے برخاستگی کے بعد عفیقی پہلے صحافی تھے کہ جن پر مقدمہ چلایا گیا۔