.

مرسی کے خلاف ججوں کا احتجاج باہمی جنگ و جدل کا میدان بن گیا

جلسے میں شریک جج نے برادر جج کو زمین پر پٹخ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر میں ججوں کی یونین کی جنرل کونسل کے ہفتے کے روز منعقدہ غیر معمولی اجلاس کے موقع پر شرکاء اس وقت حیرت کی تصویر بن گئے کہ جب اجلاس میں شرکت کے لئے آنے والے ایک جج نے دوسرے برادر جج کو زمین پر پٹخ دیا۔



صورتحال دیکھ کر دوسرے جج صاحبان نے بیچ بچاؤ کرایا، تاہم اس موقع پر باہم دست و گربیان ججوں کی بلند آواز اس ہال تک جا پہنچی جہاں یونین کے صدر جسٹس احمد الزند خطاب کر رہے تھے۔ انہیں شور شرابے کے باعث تھوڑی دیر کو اپنا خطاب روکنا پڑا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق اجلاس میں جسٹس الزند کے خطاب پر پروگرام میں شریک جج نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو اس پر جلسے میں شریک ایک دوسرے جج نے اول الذکر کو تنقید سے روکا، بات بڑھتے بڑھتے گالم گلوچ اور پھر تھپڑوں اور مکوں تک جا پہنچی۔ اسی دوران نسبتاً فربے جج نے فریق مخالف کو زمین پر پٹخ ڈالا۔

ادھر ججوں کی یونین نے اجلاس کے اختتام پر منظور کی جانے والی قرارداد میں صدر مرسی پر زور دیا گیا ہے کہ اختیارات میں اضافے کے لیے جاری کیے جانے والے صدارتی فرمان واپس لئے جائیں کیونکہ یہ عدلیہ کی آزادی پر غیر معمولی حملہ ہے۔ ہفتے کے روز مصر میں ججوں نے صدر مرسی کی جانب سے اختیارت حاصل کرنے کے صدراتی حکم کو تنقید کا نشانے بناتے ہوئے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ ہڑتال کے دوران عدالتیں اور استغاثہ کے وکلا احتجاجاً کام نہیں کریں گے۔

جس وقت ججوں کا اجلاس جاری تھا اس وقت باہر جمع مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ مصر کی اعلیٰ عدلیہ نے بھی ہفتے کے روز صدر مرسی کی جانب سے اختیارت حاصل کرنے کے صدراتی حکم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

یاد رہے کہ صدراتی حکم نامے میں عدالت کو آئین ساز اسمبلی کو ختم کرنے کے اختیارات پر قدغن لگائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ مصر کی آئین ساز اسمبلی ملک کے لیے نیا آئین بنا رہی ہے۔