.

موریتانیہ کے صدر 40 روزہ علاج کے بعد وطن واپس پہنچ گئے

صدر کی اہلیت کے بارے میں اپوزیشن شبہات کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
موریتانیہ کے صدر محمد ولد عبدالعزیز بیرون ملک علاج کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ چالیس روز تک ملک سے باہر علاج کی مدت کے دوران ان کی صحت سے متعلق مختلف افواہیں گردش کرتی رہیں، تاہم گزشتہ روز وطن واپسی کے ساتھ ہی وہ تمام افواہیں دم توڑ گئیں۔



حکام نے صرف چند اعلی عہدیداروں کو صدر کے استقبال کے لئے ایپرن تک جانے کی اجازت دی۔ وزراء کی بڑی تعداد اور دوسرے اعلی عہدیدار صدر محمد ولد عبدالعزیز کے استقبال کے لئے آنے والے ہزاروں افراد کے ساتھ ہوائی اڈے کے باہر کھڑے رہے۔

ہوائی اڈے پر استقبالیہ تقریب میں شریک ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ "صدر طاقتور ہیں اور وہ مزید اقتدار میں رہیں گے۔"

صدر کے حامیوں نے ان کی وطن واپسی پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ بیرون ملک علاج کے دوران ایسی خبریں توارتر سے آتی رہیں ہیں کہ موریتانوی صدر کے خلاف بغاوت ہو گئی ہے یا پھر وہ اپنے ہی فوجیوں کے 'فرینڈلی فائر' کے بعد دوبارہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

ہوائی اڈے سے صدر ایک کھلی گاڑی میں سوار ہو گئے۔ صدارتی محل کو جانے والے راستے کے دونوں اطراف شہریوں کی بڑی تعداد ان کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب تھی۔

صدر محمد نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا علاج مکمل ہو گیا ہے یا پھر وہ فولو اپ کے لئے دوبارہ فرانس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ میرے ڈاکٹر کریں گے۔

صدر محمد ولد عبدالعزیز کو وطن واپسی پر متعدد چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ملک کی اپوزیشن محمد ولد عبدالعزیز سے اقتدار چھوڑنے کا مسلسل مطالبہ کر رہی ہے۔ صدر کا شمالی مالی کو القاعدہ کے جنگجوؤں سے پاک کرنے کا عزم بھی ان کے لئے کھلا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ نئے پارلیمانی انتخابات کا انعقاد بھی ایک ایسا مطالبہ ہے کہ جو ولد عبدالعزیز کے لئے سوہان روح بنا ہوا ہے کیونکہ منتخب ایوان کی میعاد ایک برس قبل ختم ہو چکی تھی۔