.

شامی سرحد پر پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب پر ایران چراغ پا

'میزائل کا مقصد شامی حملوں کا دفاع ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران نے شامی سرحد پر ترکی کی جانب سے پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب پر انقرہ کو خبردار کرتے ہوئے خدشہ ظہار کیا ہے کہ اس اقدام سے شام کی خانہ جنگی کا دائرہ مزید وسعت اختیار کر سکتا ہے۔



خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی مجلس شوریٰ کے چیئرمین علی لاری جانی نے شام، لبنان اور ترکی کےدورے سے واپسی پر تہران میں صحافیوں کو بتایا کہا کہ ایران کو شامی سرحد پر پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب پر گہری تشویش ہے۔ انقرہ کے اس اقدام کےخطے کی سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور مسائل مزید پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ کچھ اسی طرح کا موقف ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان مہمانپرست نے تہران میں اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بھی ظاہر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ترکی نے شامی سرحد پر پیٹریاٹ میزائل سسٹم نصب کر کے معاملے کو مزید الجھا دیا ہے۔ ترکی کا یہ موقف غلط ہے کہ وہ ایسے اقدامات اٹھا کر مسئلے کا حل تلاش کر لے گا۔ ان اقدامات سے مسئلہ مزید الجھے گا۔ خود شام کی جانب سے سامنے آنے والے موقف میں ترکی کے پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب کو اشتعال انگیز قرار دیا گیا ہے جبکہ روس کا کہنا ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔



خیال رہے کہ ترکی اور شام کے درمیان سرحد 900 کلومیٹر طویل ہے۔ انقرہ کو خدشہ ہے کہ دمشق کی جنگ میں شدت آنے کے بعد ترکی بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ ماضی میں بھی شامی فوج ترک علاقوں پر گولہ باری کرتی رہی ہے۔



شامی حکومت کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے بیس ماہ میں چالیس ہزار افراد مارے جا چکے ہیں لیکن ایران کا موقف ہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کو ہٹانےکا مطلب خطے میں اسرائیل مخالف طاقت کو ختم کرنا ہے۔



ایران کی جانب سے پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب پر موقف سامنے آنے کے بعد ترک وزیر خارجہ احمد داؤد اوگلو کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے۔ مسٹر اوگلو کا کہنا ہے کہ شام کی سرحد پر پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب محض دفاعی نقطہ نظر سے کی گئی ہے، امید ہے ان کے استعمال کا موقع کم ہی آئے گا۔



خیال رہے کہ ترکی نے ایک ہفتہ قبل معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم 'نیٹو' سے پیٹریاٹ میزائلوں کی فراہمی کی درخواست کی تھی۔ جس کے بعد نیٹو کے تعاون سے شام کی سرحد پر کئی مقامات پر پیٹریاٹ میزائل نصب کر دیے گئے تھے۔



ادھر باغیوں نے شام کو نو فلائی زون قرار دینے کے مطالبات تیز کر دیے ہیں تاہم عالمی سطح پر اس بارےمیں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ شام کے مسئلے کے حل میں دلچسپی رکھنے والے ممالک بھی شام کو نو فلائی زون قرار دینے کے فوری طور پر حامی نہیں ہیں۔