.

ایران صدر احمدی نژاد کا خاکہ شائع کرنے پر اخبار کی اشاعت بند

کارٹون میں خامنہ ای اور احمدی نژاد کے درمیان اختلاف کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
بزعم خود آزادی اظہار رائے کے پرچارک ایران میں ایک مؤقر فارسی روزنامہ’’مغرب‘‘ میں صدر محمود احمدی نژاد کے خاکوں کی اشاعت کے بعد حکومت نے اخبار کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر کیا ہے۔ معاملہ عدالت میں چلے جانے کے بعد مالکان نے فیصلہ آنے تک اخبار کی اشاعت روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔



العربیہ ٹی وی کے مطابق اخبار کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حال ہی میں اخبار میں کارٹون کی اشاعت کے بعد وزارت ثقافت و ارشاد کی جانب سے جرنلزم کورٹ میں ایک دعویٰ دائر کیا گیا تھا، اس دعوے کے بعد انہیں آئین اور قانون کی عمل داری کو یقینی بناتے ہوئے اخبار کی اشاعت کو روکنا پڑا ہے۔



رپورٹ کے مطابق تہران کی ایک جرنلزم عدالت میں دائر وزارت ثقافت کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اخبار ’مغرب ‘میں صدر محمود احمدی نژاد کے توہین آمیز خاکے شائع کر کے غیر ذمہ داری اور آزادی صحافت کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ مذکورہ اخبار ماضی میں بھی اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے جو کہ صحافتی قوانین کے بھی خلاف ہے۔ لہذا عدالت اخبار کے خلاف سخت انضباطی کارروائی کرے۔



اخبار کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کارٹونز کی اشاعت کے نتیجے میں ملک میں بے چینی پیدا ہوئی ہے، وہ قانون کے احترام میں اخبار کی اشاعت بند کر رہے ہیں اور عدالتی فیصلہ آنے کے بعد ہی اس کی دوبارہ اشاعت کے بارے میں غور کیا جائے گا۔



خیال رہے کہ حال ہی میں اخبار مغرب کے ایک اندرونی صفحے پر صدر محمود احمدی نژاد کا ایک کارٹون شائع ہوا تھا، جس میں صدر اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے درمیان اختلافات کا اظہار کیا گیا تھا۔ کارٹون میں صدر کو مسکراتے کاغذ کا ایک ورق پھاڑتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جو اس بات کی جانب اشارہ تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ نے صدر کو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہی کے بارے میں اپنا سابقہ فیصلہ تبدیل کر لیا ہے جبکہ صدر مسکراتے ہوئے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہی سے بچ گئے ہیں اور سپریم لیڈر کا حکم وہ اپنے ہاتھوں سے چاک کر رہے ہیں۔



یاد رہے کہ ایران میں کسی اخبار میں اہم شخصیات کے کارٹون کی اشاعت کے خلاف عدالتی کارروائی پہلا موقع نہیں ہے۔ ماضی میں بھی کئی دوسرے اخبارات و جرائد پر پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں۔ ستمبر میں آٹھ سالہ ایران، عراق جنگ کے بارے میں خاکوں کی اشاعت کے خلاف ایرانی اراکین پارلیمنٹ نے اخبار’’شرق‘‘ کے خلاف مہم شروع کی تھی۔



ایران کی مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) نے ملک میں جاری اقتصادی بحران اور قومی کرنسی کے ڈالر کے مقابلے میں گرنے کی وجووہات پرسوال جواب کے لیے صدر کو پارلیمنٹ میں طلب کیا تھا۔ پارلیمنٹ صدر پر اقتصادی بحران کے حل میں درست طور پر نمٹنے میں ناکامی کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔

پارلیمنٹ کو یہ بھی شکوہ ہے کہ صدر اپنی مرضی سے حکومتی اداروں کے لیے بجٹ مختص کرتے رہے ہیں اور اقتصادی بحران ہونے کے باوجود بجٹ کے معاملے میں پارلیمنٹ کو بائی پاس کیا جاتا رہا ہے۔ پارلیمنٹ کی جانب سے صدر کی طلبی کا مطالبہ زور پکڑنے کے بعد محمود احمدی نژاد نے بھی ہتھیار تیز کرنا شروع کردیے تھے۔ انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر انہیں پارلیمنٹ میں احتساب کے لیے بلایا گیا تو وہ بہت سے پردہ نشینوں کے راز افشاء کردیں گے۔