.

دو ریاستی حل کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے بین کی مون

مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے دوبارہ کوششیں کی جائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے مشرق وسطیٰ تنازعے کے دو ریاستی حل کے لیے ازسر نو کوششیں شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انھوں نے یہ بات ویانا میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز بین الاقوامی مرکز برائے بین الثقافت اور بین المذاہب ڈائیلاگ کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''اب تنازعے اور قبضے کے خاتمے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ دوریاستی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے''۔

بین کی مون نے کہا کہ ''اسرائیل اور حماس کے درمیان گذشتہ بدھ کو طے پائی جنگ بندی کے پیش نظر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ دونوں فریقوں کو اس کی پاسداری کرنی چاہیے''۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ سمجھوتا کافی نہیں ہے بلکہ تمام تصفیہ طلب امور کو طے کیا جانا چاہیے۔ یہ علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے اور ایک جامع امن معاہدہ ہمارا حتمی مقصد ہے۔اسی طرح ہم تمام لوگوں کی سکیورٹی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

انھوں نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حالیہ تنازعے اور شام اور افریقی ملک مالی میں تشدد اور مذہبی تقسیم کے تناظر میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز بین الاقوامی مرکز برائے بین الثقافت اور بین المذاہب ڈائیلاگ کو اہم قرار دیا اور کہا کہ اس کے ذریعے باہمی افہام وتفہیم کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز عالمی مرکز برائے بین المذاہب اور بین الثقافت ڈائیلاگ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں 2011ء قائم کیا گیا تھا۔ اس کا بڑا مقصد مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے پیروکاروں کے درمیان باہمی افہام وتفہیم کے علاوہ انسانی حقوق کے احترام، انصاف ،امن اور مصالحت کو فروغ دینا ہے۔ نیز جبر و تشدد کو جواز فراہم کرنے کے لیے مذہب کے استعمال کو روکنا ہے۔

رومن کتھولک چرچ کے مرکز ویٹی کن نے بھی سعودی عرب کے فرمانروا کے قائم کردہ اس مرکز میں بانی مبصر کے طور پر شمولیت اختیار کی ہے۔ ویٹی کن کی کونسل برائے بین المذاہب ڈائیلاگ کے سیکرٹری فادر میجوئل اینجل آیوسو نے ایک بیان میں کہا کہ ''شاہ عبداللہ مرکز میں ان کی شمولیت سے عالمی سطح پر مذاہب پر مباحث کو فروغ ملے گا''۔

انھوں نے کہا کہ باہمی احترام اور تفہیم پر مبنی ڈائیلاگ اور تعاون ہمارے حال اور مستقبل کی ایک اہم ضرورت ہے۔ویٹی کن کے مبصر اور کیتھولک چرچ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن کے طور پرمجھے یہ موقع ملا ہے کہ میں ان اقدار کے فروغ کے لیے شاہ عبداللہ مرکز کی حمایت کروں''۔

شاہ عبداللہ عالمی مرکز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں دنیا کے پانچ بڑے مذاہب اسلام، یہودیت، عیسائیت، ہندو مت اور بدھ مت کے اعلیٰ نمائندے شامل ہیں۔اس ادارے کا باضابطہ افتتاح 26 نومبر 2012ء کو ویانا میں کیا گیا ہے۔