.

بحرین اسرائیلی پرچم جلانے پر رکن پارلیمان مخالفانہ کارروائی سے محفوظ

معاملہ پارلیمان کی قانونی کمیٹی کے سپرد کرنے کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی حالیہ جارحیت کے خلاف بطور احتجاج بحرین کی پارلیمان میں صہیونی پرچم کو نذر آتش کرنے والے رکن اپنے ساتھیوں کی تعزیری کارروائی سے بچ نکلے ہیں۔

متحدہ عرب امارات سے نکلنے والے اخبار گلف نیوز میں بدھ کو شائع شدہ رپورٹ کے مطابق بحرینی رکن پارلیمان اسامہ آل تمیمی کسی کو خبردار کیے بغیر اسرائیلی پرچم کو نذر آتش کرنے کے لیے پارلیمان میں ایندھن لے آئے تھے۔

اسامہ تمیمی کے خلاف تعزیری کارروائی کے لیے پارلیمان میں پیش کردہ قرارداد کی اکیس ارکان کے ووٹوں سے منظوری ضروری تھی لیکن رائے شماری کے وقت ان کے خلاف اور کارروائی کے حق میں صرف پندرہ ارکان نے ووٹ دیا۔ دس نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا اور چھے نے اس کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کیس کو قانونی کمیٹی کو منتقل کیا جائے۔ آٹھ ارکان اس ہفتہ وار اجلاس سے غیر حاضر رہے تھے۔

بحرینی پارلیمان کے اسپیکر خلیفہ آل ظہرانی نے کہا کہ پارلیمان میں منفی طرز عمل کی بنیاد رکھی جا رہی تھی اس لیے ارکان اسامہ تمیمی کو ان کے اس فعل پر سزا دینے کے لیے تعزیری کارروائی کی حمایت کریں۔

گلف نیوز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ''اس کیس کو جائزے کے لیے قانونی کمیٹی کو بھیجا جانا چاہیے تھا۔ایک رکن پارلیمان کے خلاف کوئی اہم فیصلہ نہیں کیا جارہا تھا بلکہ اس کے اقدام کے خلاف کیا جا رہا تھا۔ یہ درست اقدام نہیں ہے کہ کمیٹی کو اس کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزے لینے اور اس کی رپورٹ لکھنے سے ہی روک دیا گیا ہے''۔

ان کے علاوہ دوسرے نو ارکان پارلیمان نے بھی قانون ساز کمیٹی کے رو برو ایک کیس دائر کیا ہے اور اس میں موقف اختیار کیا ہے کہ اسرائیلی پرچم کو ایندھن سے نذر آتش کرنے والے رکن کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تا کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔

واضح رہے کہ اسامہ تمیمی ماضی میں بھی اس طرح کی حرکات سر زد ہوتی رہی ہیں۔ گذشتہ سال انھوں نے ایک ساتھی رکن پارلیمان کو ایک کتابچہ دے مارنے کی دھمکی دی تھی اور اس سے قبل انھوں نے اجلاس کے وقفے کے دوران ایک خاتون رکن کی بھی توہین کی تھی۔ان کی ان حرکتوں پر انھیں پارلیمان کے پانچ اجلاسوں میں شرکت سے روک دیا گیا تھا۔