.

مصر اپوزیشن رہنما سید البدوی پر حملے میں ملوث ملزم کی شناخت

'الوفد پارٹی جلد حملے کے مقاصد کی وضاحت کرے گی'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر میں بائیں بازو کی نمائندہ حکومت مخالف سیاسی جماعت 'الوفد' کے سربراہ ڈاکٹر السید البدوی پر حملے میں ملوث ایک شخص کی شناخت کرلی گئی ہے۔ ڈاکٹر السید البدوی کا کہنا ہے کہ وہ منگل کے روز خود پر حملہ آور شخص اور حملے کے پس پردہ اس اصل محرک تک پہنچ چکے ہیں تاہم اس کا اعلان وہ صدارتی اعلامیے کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے اختتام کے بعد کریں گے۔



الوفد پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر البدوی نے العربیہ ٹی وی کو بتایا کہ ان پر میدان تحریر میں گزشتہ روز حملہ کرنے والا اکیس سالہ نوجوان ہے جس کی شناخت کر لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کا نام اوراس کی مکمل شناخت کرلی گئی ہے اور ہم حملے کے پس پردہ اس خفیہ ہاتھ تک بھی پہنچ چکے ہیں جس نے یہ حملہ کرایا تھا۔



ایک سوال کے جواب میں البدوی کا کہنا تھا کہ وہ ملزم کو منظرعام پر لانے میں عجلت کا مظاہرہ اس لیے نہیں کررہے ہیں کیونکہ اس کے منظرعام پرآنے کے بعد ان کا میدان تحریر میں جاری ملین مارچ متاثر ہو سکتا ہے۔ صدر کے اقدامات کے خلاف ہماری تحریک کی کامیابی کے بعد اس نوجوان کے اقبالی بیان پرمشتمل ایک ویڈیو قوم کے سامنے پیش کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اسے کچھ لوگوں نے حملے کے لیے رقم فراہم کی تھی۔



خیال رہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ایک ویڈیو فوٹیج تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ چند سیکنڈ کی اس ویڈیو میں الوفد پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر سید البدوی اور ان کے حامیوں کو میدان تحریر میں چلتے دکھایا گیا ہے۔ اسی اثناء میں ایک نقاب پوش شخص ان کے قریب آتا ہے اور پیٹھ پیچھے سے ان پر گھونسوں سے حملہ کرکے فرار ہو جاتا ہے۔

یاد رہے کہ موقع پر اس نوجوان کی شناخت نہیں ہوسکی۔ تاہم مصری شہریوں کا کہنا ہے کہ جو شخص ویڈیو میں حملہ کرتے دیکھا گیا ہے اسی حلئے کا ایک شخص سابق نائب صدر عمرسلیمان مرحوم کے پیچھے کھڑا دکھائی رہا تھا جس وقت وہ سابق صدر حسنی مبارک کے اقتدار سے علاحدگی کا اعلان کر رہے تھے۔