مصر گستاخانہ فلم کی تیاری میں ملوث سات قبطیوں کو سزائے موت

توثیق کے لیے فیصلہ مفتی مصر کو ارسال کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصری عدالت کی گستاخان رسول غیر مسلم شہریوں کو دی گئی سزاؤں کے عمل درآمد کے حوالے سے تحفظات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہری حقوق کے وکیل ماجد وھبہ نے قاہرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاتمان رسول کے خلاف عدالتی فیصلہ خوش آئند ہے، تاہم خدشہ ہے کہ دنیا بھر میں اسلام دشمن مہم میں پیش پیش صہیونی تنظیمیں ملزمان کو بچانے کے لیے بھی خم ٹھونک کر میدان میں آ سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صہیونیوں کی گستاخان رسول کے ساتھ ہمدردی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ صہیونی تنظیمیں ملزمان کو بچانے کے لیے ثالثی کرنے یا انہیں سیاسی پناہ دلوانے کی کوششیں بھی کریں گی۔ کئی ایسے ملک موجود ہیں جو گستاخان رسول کو با آسانی پناہ دے سکتے ہیں۔

قاہرہ میں مسیحی برادری کے ایک ماہری قانون اور آرتھوڈوکس چرچ کے کوآر ڈینیٹر کمال زاخر نے فیصلے کے حوالے سے کہا کہ قاہرہ عدالت نے مقدمے کی سماعت ملزمان کی غیر موجودگی میں کی اس لئے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ فیصلے کے کیا نتائج سامنے آئیں گے۔

کمال زاخر کا کہنا تھا کہ عدالت کی جانب سے ملزمان کے خلاف فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک سیاسی طور پر اضطرات میں ہے۔ البتہ میرے ذہن میں ایک بات ضرور کھٹکتی رہے گی کہ اسلام کی توہین کا فیصلہ تو آ گیا لیکن عیسائیت کی توہین کے بھی کئی مقدمات عدالتوں میں موجود ہیں، ان کے فیصلے کب آئیں گے؟۔

ادھر گستاخان رسول کی جانب سے مقدمہ کی پیروی کرنے والے وکلاء نے عدالتی فیصلے کو سیاسی قرار دیا ہے۔ وکیل استغاثہ نجاد البرعی کا کہنا ہے کہ ملزمان کی عدالت میں عدم موجودگی میں سنایا گیا فیصلہ مکمل سیاسی فیصلہ ہے، جس کی کوئی آئینی اور قانی حیثیت نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں البرعی کا کہنا تھا کہ ملزمان کے خلاف فیصلہ عدالت کی طرف سے نہیں بلکہ انتظامیہ کی جانب سے آیا ہے، یہ عدلیہ کی آزادی کے زوال کی ایک بڑی علامت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں