.

مصر گستاخانہ فلم کی تیاری میں ملوث سات قبطیوں کو سزائے موت

توثیق کے لیے فیصلہ مفتی مصر کو ارسال کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی ایک فوجداری عدالت نے سات قبطی باشندوں کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں توہین آمیز فلم کی تیاری میں مدد فراہمی کے الزام میں موت کی سزا سنائی ہے۔ سزا کے وقت مجرم عدالت میں موجود نہیں تھے۔ گستاخانہ فلم نائن الیون امریکی حملوں کی برسی کے موقع پر جاری کی گئی تھی۔ فلم نے پوری اسلامی دنیا میں ایک غم و غصے کا ایک طوفان برپا کر دیا تھا۔



ذرائع کے مطابق عدالت نے ساتوں قبطی ملزموں کا کیس سزائے موت کی توثیق کے لئے مفتی اعظم کو ارسال کر دیا ہے۔ فوجی داری عدالت مفتی اعظم کی جانب سے حتمی توثیق کے بعد 29 جنوری 2013ء کو کیس کی آخری مرتبہ پھر سماعت کرے گی۔ اس ضمن میں مفتی اعظم کی رائے کو حتمی سمجھا جائے گا جبکہ ماضی میں مفتی عدالت کو صرف مشورہ دینے کا مجاز تھا، اس کی رائے حتمی تصور نہیں کی جاتی تھی۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گستاخانہ فلم کی تیاری میں ملوث ملزمان میں قبطی نیشنل فاؤنڈیشن کے وکیل مصری نژاد موریس صادق جرجس الشہید، ٹی وی اینکر مرقص عزیز خلیل، عبدالمسیح زقلمہ المعروف عصمت زقلمہ، نبیل ادیب بسادہ موسیٰ، الیا باسلی المعروف نیکولا باسلی، ناھد محمود المعروف فیبی عبدلمسیح بولیس صلیب اور امریکی پادری ٹیری جونز شامل ہیں۔



رپورٹ کے مطابق شہری حقوق کے استغاثہ مجدی عبدالعزیز نے عدالتی فیصلے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمانوں کی فتح قرار دیا۔ اپنے ایک بیان میں مجدی عزیز کا کہنا تھا کہ دنیا کا امن تباہ کرنےکی سوچ رکھنے والے مجرموں کو ایسی ہی سزائیں ملنی چاہئیں۔

صہیونی آڑے آ سکتے ہیں!

مصری عدالت کی گستاخان رسول غیر مسلم شہریوں کو دی گئی سزاؤں کے عمل درآمد کے حوالے سے تحفظات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہری حقوق کے وکیل ماجد وھبہ نے قاہرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاتمان رسول کے خلاف عدالتی فیصلہ خوش آئند ہے، تاہم خدشہ ہے کہ دنیا بھر میں اسلام دشمن مہم میں پیش پیش صہیونی تنظیمیں ملزمان کو بچانے کے لیے بھی خم ٹھونک کر میدان میں آ سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صہیونیوں کی گستاخان رسول کے ساتھ ہمدردی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ صہیونی تنظیمیں ملزمان کو بچانے کے لیے ثالثی کرنے یا انہیں سیاسی پناہ دلوانے کی کوششیں بھی کریں گی۔ کئی ایسے ملک موجود ہیں جو گستاخان رسول کو با آسانی پناہ دے سکتے ہیں۔

قاہرہ میں مسیحی برادری کے ایک ماہری قانون اور آرتھوڈوکس چرچ کے کوآر ڈینیٹر کمال زاخر نے فیصلے کے حوالے سے کہا کہ قاہرہ عدالت نے مقدمے کی سماعت ملزمان کی غیر موجودگی میں کی اس لئے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ فیصلے کے کیا نتائج سامنے آئیں گے۔

کمال زاخر کا کہنا تھا کہ عدالت کی جانب سے ملزمان کے خلاف فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک سیاسی طور پر اضطرات میں ہے۔ البتہ میرے ذہن میں ایک بات ضرور کھٹکتی رہے گی کہ اسلام کی توہین کا فیصلہ تو آ گیا لیکن عیسائیت کی توہین کے بھی کئی مقدمات عدالتوں میں موجود ہیں، ان کے فیصلے کب آئیں گے؟۔

ادھر گستاخان رسول کی جانب سے مقدمہ کی پیروی کرنے والے وکلاء نے عدالتی فیصلے کو سیاسی قرار دیا ہے۔ وکیل استغاثہ نجاد البرعی کا کہنا ہے کہ ملزمان کی عدالت میں عدم موجودگی میں سنایا گیا فیصلہ مکمل سیاسی فیصلہ ہے، جس کی کوئی آئینی اور قانی حیثیت نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں البرعی کا کہنا تھا کہ ملزمان کے خلاف فیصلہ عدالت کی طرف سے نہیں بلکہ انتظامیہ کی جانب سے آیا ہے، یہ عدلیہ کی آزادی کے زوال کی ایک بڑی علامت ہے۔