.

امیر قطر نے امریکی فوج کو اڈا بنانے پر مکمل رقم ادا کی تھی عمرو موسیٰ

قطری عوام خوشحال ہیں،حکومت کو بغاوت کا خطرہ نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عرب لیگ کے سابق سیکرٹری جنرل اور مصر کے سابق ناکام صدارتی امیدوار عمرو موسیٰ نے انکشاف کیا ہے کہ قطر اپنے ملک میں امریکا کی فوجی موجودگی کی مکمل رقم ادا کر رہا ہے۔

انھوں نے لندن سے شائع ہونے والے عرب روزنامے الحیات کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''قطر کے شہزادے شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے امریکا کو مطلع کیا تھا کہ اگر وہ ان کے ملک میں فوجی اڈا قائم کرے تو وہ اس کے تمام فوجی اخراجات برداشت کرنے کو تیار ہیں''۔

عمرو موسیٰ نے کہا کہ ''شیخ حمد بن خلیفہ قطر کی حقیقی قوت ہیں اور شیخ حمد بن جاسم ان کی معاونت کرتے ہیں۔ شہزادہ ملکی امور بہتر طریقے سے چلا رہا ہے اور وہ اہم فیصلوں کو بڑی آسانی سے طے کر لیتے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''جب انھوں نے تحفظ کے بارے میں سوچا اور یہ دیکھا کہ امریکی ہی انھیں تحفظ مہیا کرس کتے ہیں۔ پھر انھوں نے امریکی فوج سے اس سلسلہ میں بات کی اور اب وہ قطر میں ایک اڈا بنا رہی ہے حالانکہ یہ امریکی فوج کی ترجیح نہیں تھی کہ وہ وہاں اڈا بنائے لیکن شیخ حمد نے امریکیوں کو بتایا کہ وہ ان کے مکمل اخراجات کی ادائی کو یقینی بنائیں گے۔ چنانچہ اب انھیں مکمل سکیورٹی حاصل ہے اور وہ آگے بڑھ رہے ہیں''۔

عمرو موسیٰ کا کہنا ہے کہ ''اور بھی بہت سے عوامل کی وجہ سے قطر مضبوط ہے اور ان میں سے ایک اس کے لیڈروں کا ملک کے داخلی امور کو بہتر طریقے سے چلانا ہے''۔ان کے بہ قول قطر ''نرم آلات'' کے استعمال کی وجہ سے ایک مضبوط ملک بن گیا ہے۔

مصر کے سابق وزیر خارجہ نے قطر کے استحکام کے اسباب بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ رقبے کے اعتبار سے ایک چھوٹا ملک ہے، ا سے کم داخلی چیلنجز کا سامنا ہے اور وہ سیاسی طور پر ایک مستحکم ملک ہے کیوں کہ اس کے لوگ مالی طور پر خوشحال ہیں اور جب لوگ خوشحال ہوں تو موجودہ حکمرانوں کے خلاف بغاوت کا کوئی جواز نہیں ہے۔

اس انٹرویو میں عمرو موسیٰ نے عرب دنیا کے انقلابات میں قطر کے سیاسی کردار کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا ہے۔قطری حکومت شام میں مسلح عوامی بغاوت کی حمایت کررہی ہے۔اس نے لیبیا میں سابق صدر معمر قذافی کے خلاف مسلح عوامی جدوجہد اور نیٹو کے فضائی حملوں کی حمایت کی تھی۔ان کے علاوہ تیونس ،مصر اور یمن کے مطلق العنان صدور کے خلاف تحریکوں کی حمایت کی تھی۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا قطر عرب بہاریہ ممالک میں اخوان المسلمون کے پروگرام کے بھی حمایت کرتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ قطر کا یہ مذہبی کلچر نہیں ہے اور اس ملک کے میڈیا کی کوریج اور رقوم کی تقسیم سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اسلامی جماعتوں کو اپنا ایک پروگرام ہے اور وہ اس کو ہی نافذ کرنا چاہتی ہیں۔قطر سمیت دوسرے ممالک کو یہی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔