.

عرب دنیا میں اسلامی تحریکوں کو بالا دستی حاصل ہو گی راشد غنوشی

عبوری دور میں سیکولر جماعتیں اسلام پسندوں کا ساتھ دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
تیونس کی حکمران اسلامی جماعت النہضہ کے سربراہ شیخ راشد الغنوشی نے کہا ہے کہ عرب دنیا میں اسلامی تحریکیں مشکل عبوری دور سے گزرنے کے بعد بالادستی حاصل کر لیں گی۔

راشد الغنوشی نے یہ بات لندن کے دورے کے موقع پر ایک انٹرویو میں کہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ''سیکولر گروپوں کو عرب دنیا میں مطلق العنان حکمرانوں کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پہلے مرحلے میں اسلامی جماعتوں کے ساتھ مل کر انتظام وانصرام سنبھالنا چاہیے تھا''۔البتہ ان کے بہ قول:''بالآخر اسلام ہی حوالے کا نکتہ بن جائے گا''۔

شیخ راشد نے کہا کہ ''عرب دنیا اس وقت ایک عبوری مرحلے سے گزر رہی ہے اور نظم ونسق چلانے کے لیے مخلوط حکومتوں کے قیام کی ضرورت ہے۔اس سے اسلامی اور سیکولر رجحانات رکھنے والوں کو قریب آنے کا موقع ملے گا''۔ واضح رہے کہ تیونس میں گذشتہ سال برپا شدہ عوامی انقلاب کے بعد النہضہ کے ساتھ دو چھوٹی سیکولر جماعتیں مخلوط حکومت میں شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان مخلوط حکومتوں سے اسلام پسندوں اور سیکولرسٹوں کو قریب آنے کا موقع ملے گا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ''اسلام پسندوں کو مخلوط حکومتوں میں بالا دستی حاصل ہونی چاہیے''۔

سابق تیونسی صدر زین العابدین بن علی کے دوراقتدار میں ایک طویل جلا وطنی گزارنے والے راشد غنوشی کا کہنا تھا:''سیدھا راستہ یہ ہے کہ اسلام ہر کسی کے لیے مشترکہ بنیاد مہیا کرتا ہے اور بالآخر اسلام ہر کسی کے لیے حوالے کا نکتہ بن جائے گا''۔