.

فلسطین کو اقوام متحدہ میں مبصر ریاست کا درجہ مل گیا

امریکا اور اسرائیل نے قرارداد کے خلاف ووٹ ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کثیر تعداد میں رائے دہی کے ذریعے فلسطین کو ’غیر رکن مبصر درجہ‘ دے دیا ہے۔ ایک سو ترانوے رکنی جنرل اسمبلی میں قرارداد کے حق میں 138، مخالفت میں نو جب کہ 41 ممالک نے ووٹ دینے سے اجتناب کیا۔ امریکا اور اسرائیل اُن نو ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے قرارداد کو مسترد کیا۔

پندرہ یورپی ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالنے کا پہلے ہی فیصلہ کر لیا تھا۔ آسٹریا، فرانس، اسپین، لکسمبرگ، مالٹا، پرتگال، سویڈن، آئس لینڈ، سویٹزرلینڈ، یونان، فن لینڈ، ناروے، ڈنمارک، آئر لینڈ اور اٹلی وہ ممالک ہیں، جنہوں نے فلسطینی قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالنے کا پہلے ہی اعلان کر رکھا تھا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے سفارتی درجہ بڑھائے جانے سے فلسطینی اتھارٹی کو انٹرنیشنل کرمینل کورٹ سمیت کئی یو این اداروں تک رسائی کی اجازت ہو گی۔

جمعرات کے روز قرارداد منظور ہونے پر اسمبلی کے ایوان میں مسرت کا اظہار کیا گیا۔ ووٹنگ کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فرط مسرت سے بے قابو فلسطینی ایک دوسرے سے بغلگیر ہوئے اور موٹر گاڑیوں سے ہارن بجائے گئے۔ جشن منانے والوں کی بیشتر تعداد صدر محمود عباس کی اپنی جماعت الفتح کے کارکنوں پر مشتمل دکھائی دی۔ شہریوں نے خوشی میں آتش بازی اور ہوائی فائرنگ بھی کی اور صدر محمود عباس کی حمایت میں نعرے لگائے۔

امریکا اور اسرائیل فلسطین کی جانب سے نان ممبر آبزرور اسٹیٹ کا درجہ حاصل کرنے پر خوش نہیں ہیں۔ اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر ران پروسور نے کہا کہ فلسطین کو اس عمل سے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہونے والی بلکہ یہ امن کے راستے میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوزن رائس نے ووٹ کو ’افسوس ناک‘ اور ’بے فائدہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث امن کی راہ میں مشکلات کھڑی ہوں گی۔ رائس نے کہا کہ امریکا تمام متعلقہ فریقوں پر زور دے گا کہ مزید اشتعال انگیز اقدامات سے احتراز کریں اور بغیر شرائط کے فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔

جمعرات کی ووٹنگ سے قبل، فلسطینی لیڈر محمود عباس نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ فلسطینیوں کے لیے اقوام متحدہ کی طرف سے درجے میں اضافہ ’دو ریاستی حل‘ کو حاصل کرنے کا آخری موقع ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اسمبلی سے یہ درخواست کی جا رہا ہے کہ فلسطین کی پیدائش کا سرٹیفیکٹ پیش کیا جائے۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نتین یاہو نے کہا تھا کہ ’اقوامِ متحدہ میں ہونے والا فیصلہ، زمینی حقائق نہیں بدلے گا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس سے فلسطینی ریاست کی انتظامیہ ترقی نہیں کرے گی بلکہ یہ معاملات کو مزید تاخیر کا شکار کرے گا۔‘

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے بتایا کہ نائب وزیر خارجہ ولیم برنز اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی امریکی مندوب ڈیوڈ ہیلے نے بدھ کو نیویارک میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقات میں انہیں واشنگٹن کے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے زور دیا تھا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

نولینڈ کا کہنا تھا کہ نائب وزیر خارجہ نے ایک بار پھر اس موقف کا اعادہ کیا کہ کسی کو اس دھوکے میں نہیں رہنا چاہتا کہ اس قرارداد کے ذریعے وہ مقاصد حاصل ہوجائیں گے جن کی فلسطینی خواہش رکھتے ہیں۔ واشنگٹن میں بدھ کے روز امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے بھی فلسطینی قیادت کو بالکل واضح کر دیا ہے کہ امریکا اس کی درجہ بلند کرنے کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی دو ریاستی خواہش کی تکمیل کا راستہ نیویارک سے نہیں بلکہ یروشلم اور رام اللہ کے راستے سے گزرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں جو کچھ بھی ہو وہ ایک دیرپا دو ریاستی حل نہیں دے سکتا صرف براہ راست گفت و شنید سے ہی ایسا ممکن ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال فلسطینی اتھارٹی نے مکمل رکنیت حاصل کرنے کے لئے اقوام متحدہ میں درخواست دی تھی لیکن سلامتی کونسل میں امریکا نے اس تجویز کو ویٹو کر دیا تھا اور فلسطینیوں کی کوشش ناکام ہو گئی تھی۔