.

صدر احمدی نژاد نے ایران کو تباہی کے دہانے پے پہنچا دیا

انقلاب ایران کے بعد ملک کو سنگین معاشی بحران کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے باعث تہران کے خلاف عائد عالمی اقتصادی پابندیوں کے تباہ کن اثرات نے ایرانی حکمرانوں کو ایک دوسرے کے خلاف سخت برانگیختہ کر رکھا ہے، جہاں حکمران طبقہ ملک کو درپیش ناکامیوں کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔



تہران حکومت کے اندرونی حلقوں سے لیک ہونے والی رپورٹ کی نقل العربیہ کو موصول ہوئی ہے جس میں صدر محمود احمدی نژاد اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے درمیان چشمک اور ملک کو درپیش بحران کے حوالے سے مشکلات کا احاطہ کیا گیا ہے۔



رپورٹ کے مطابق مُرشد اعلیٰ کے بعض 'خواص' نے صدر احمدی نژاد کی داخلہ، خارجہ اور معاشی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ناکام حکمت عملی کے باعث صدر نے ملک کو تباہی کے دہانے پے لا کھڑا کیا ہے۔

بظاہر ایرانی حکام یہ تاثر دینے کی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ عالمی اقتصادی پابندیاں تہران پر زیادہ منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں لیکن زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ معاشی بحران کی وجہ سے نہ صرف بر سر اقتدار گروپ میں اختلافات پائے جا رہے ہیں بلکہ عوام میں بھی سخت اشتعال پایا جاتا ہے۔



رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران سنہ 1979ء میں برپا ہوئے انقلاب کے بعد تین عشروں میں پہلی مرتبہ اس نوعیت کے سنگین معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ایران کو درپیش معاشی مشکلات کی بنیادی وجہ صدر احمدی نژاد کی جانب سے عالمی اقتصادی پابندیوں سے نمٹنے میں ناکامی ہے کیونکہ صدر ان پابندیوں کے منفی اثرات سے نکلنے کے لیے کوئی مؤثر اور ٹھوس لائحہ عمل مرتب نہیں کر سکے ہیں۔



خیال رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کےتسلسل کے خلاف یورپی یونین اور امریکا نے پچھلے دو برسوں کے دوران تہران کے خلاف سخت معاشی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ان پابندیوں کے باعث ایرانی تیل کی عالمی منڈی تک رسائی نہ ہونے کے باعث ملک سنگین معاشی گرداب میں پھنس چکا ہے۔



تہران کے خفیہ ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت خوراک اور اجناس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے 10 ملین ٹن گندم برآمد کر رہی ہے، اس کے باوجود غلے کی ضروریات پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی ہے۔ گندم کا کافی ذخیرہ نہ ہونے کے باعث خدشہ ہے کہ اب عوام بھی سڑکوں پر نکل آئیں گے۔



ایرانی حکومت کے بعض اہم عہدیدار اور احمدی نژاد کے مخالفین یہ توقع لگائے ہوئے ہیں کہ سنہ 2013ء کے صدارتی انتخابات میں نئے صدر کے انتخاب کے بعد حالات بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے، تاہم ایران کی کسی بھی پیش آئند حکومت کی جانب سے یورنیم کی افزودگی کا عمل بند ہونے کا کوئی احتمال نہیں ہے۔