.

مرسی کی حمایت میں اسلام پسندوں کا عظیم الشان ملین مارچ

'صدارتی فرامین کی منسوخی تک احتجاجی دھرنا جاری رہے گا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصری دستور ساز اسمبلی کا منظور کردہ آئینی مسودہ صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو پیش کر دیا گیا ہے۔ پانچ ماہ قبل اقتدار سنبھالنے والے صدر مرسی ان دنوں سیاسی بحران میں گھرے ہوئے ہیں۔

ادھر دارلحکومت قاہرہ میں صدر مرسی کے ہزاروں حامیوں نے ان کی حمایت میں مظاہرہ کیا جبکہ میدان تحریر میں خیمہ زن ان کے سیاسی مخالفین نے تحریک میں تیزی لاتے ہوئے صدارتی محل کی جانب مارچ کی دھمکی دی ہے۔

مطابق صدر مرسی اور پیپلز اسمبلی کے اسپیکر حسام الغریانی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دستور کے مسودے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ادھر کثیر الاشاعت روزنامہ 'الاہرام' نے بتایا کہ ملاقات کے بعد صدر مرسی دستوری مسودے پرعوامی ریفرنڈم کرانے کا اعلان کر سکتے ہیں تاکہ عوامی ووٹ کے بعد اسے ملکی دستور کے طور پر نافذ کیا جا سکے۔ پرانا دستور سن 2011ء کے اوائل میں صدر حسنی مبارک کی ایوان اقتدار سے رخصتی کے بعد منسوخ ہو گیا تھا۔

ہفتے کے روز صدر مرسی کے حامیوں نے ان کے جاری کردہ فرامین کی حمایت میں قاہرہ یونیورسٹی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ 'قانونی اور شرعی ملین مارچ' کے نام سے ہونے والے اس مظاہرے میں قاہرہ کے گرد نو اح سے ان کے اسلام پسند حامی بڑی تعداد میں مارچ میں شریک ہیں۔ ڈاکٹر مرسی کی حمایت میں ملین مارچ کا آغاز گنبد باغ سے ہوا، جو قاہرہ یونیورسٹی اسکوائر پر اختتام پذیر ہو گی۔

درایں اثنا ہفتے کے روز صدر مرسی کے خلاف میدان تحریر میں ہونے والا احتجاج قدرے پرسکون رہا۔ اب بھی اپوزیشن کے دسیوں کارکن محمد مرسی کے فرامین کی منسوخی کے مطالبے پر زور دینے کی خاطر تحریر اسکوائر میں دھرنا دیئے ہوئے ہیں۔

الجیزہ سرکل نے علاقے کی سیکیورٹی سخت کر رکھی ہے۔ ملین مارچ کی پرامن تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے قاہرہ یونیورسٹی کو جانے والی شاہراؤں پر جگہ جگہ چیک پوسٹس قائم کی گئی ہیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق ملین مارچ میں اٹھارہ سیاسی و دینی جماعتوں نے شرکت کا اعلان کر رکھا ہے۔ انہی جماعتوں نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا کہ وہ صدر مرسی کی حمایت میں اپنا مارچ تحریر اسکوائر کے بجائے قاہرہ یونیورسٹی کے سامنے میدان النھضہ میں منعقد کریں گی کیونکہ اس بات کا خدشتہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ صدر کے مخالفین اور حامیوں کے ایک ہی جگہ پر 'شو آف پاور' سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل میدان تحریر میں صدر مرسی کے خلاف دھرنا دینے والے اپوزیشن ارکان نے خبردار کیا تھا کہ وہ صدر مرسی کی حمایت میں اس جگہ کسی ملین مارچ کو داخل نہیں ہونے دیں گے۔