.

کُردوں کے ساتھ رسا کشی قومی جنگ میں بدل سکتی ہے نوری المالکی

شام جانے والے ہر طیارے کی تلاشی نہیں لے سکتے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق میں مرکزی حکومت اور کرد اکثریتی صوبہ کردستان کے درمیان کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ مرکز اور صوبے میں جاری سرد جنگ میں وزیر اعظم نوری المالکی نے کردوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات محدود رکھیں ورنہ ان کے خلاف 'قومی جنگ' چھڑ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کردوں اور بغداد حکومت کے درمیان تنازع ایک حقیقت ہے لیکن امریکا سمیت کوئی ملک اس کے حل کے لیے فوجی مداخلت نہیں کرے گا۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے بغداد میں ایک طویل نیوز کانفرنس میں کہا کہ 'ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر کردوں اور مرکز کے درمیان لڑائی چھڑ گئی تو یہ نہایت افسوسناک اور خوفناک ہو گی۔ یہ کشمکش ایک قومی جنگ میں بدل سکتی ہے۔ اس کا فائدہ کردوں کو ہو گا اور نہ ہی عربوں اور ترکوں کو ہو گا، بلکہ سب خسارے میں جائیں گے‘‘۔



نوری المالکی نے انکشاف کیا کہ یہ تجویز سب سے پہلے انہوں نے پیش کی تھی کی کہ قدرتی وسائل کی دولت سے مالا متنازعہ علاقوں کے شہریوں پر مشتمل ایک فوج قائم کی جائے۔ وہ فوج ہی ان علاقوں پر سیکیورٹی کنٹرول قائم کرے۔ انہوں نے کہا کہ میری تجویز یہ تھی کہ بغداد اور آربیل مل کر متنازعہ علاقوں کرکوک، دیالی اور صلاح الدین گورنری کے باشندوں کی ایک فوج قائم کریں۔ ملک کی مسلح فوج بھی ان علاقوں میں موجود رہے لیکن دونوں سیکیورٹی اداروں کے درمیان باہمی تعاون کا ایک سمجھوتہ کرا دیا جائے۔



کرد حکومت نے ہماری تجویز مسترد کر دی اور کہا کہ وہ متنازعہ علاقوں پر مرکزی فوج کی تعیناتی قبول نہیں کریں گے اور صرف اپنی پانچ بریگیڈ فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اشتعال انگیز مطالبہ ہے۔ بھاری اسلحہ صرف بغداد کا حق ہے اور کسی صوبے کے پاس بھاری ہتھیاروں کی موجودگی سخت خطرناک ہو سکتی ہے۔

جلال طالبانی کو میں نے صدر بنایا

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے نیوز کانفرنس سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ کردوں سے تعلق رکھنے والے جلال طالبانی کو صدر مملکت بنانے کا فیصلہ میں نے خود کیا اور خود ہی طالبانی سے رابطہ کر کے انہیں بغداد لایا گیا۔ عراق کے تمام اہل تشیع کے گروپ اور کرد تنظیموں نے جلال طالبانی کو ملک کا صدر تسلیم کیا اور ان کے اتفاق رائے سے طالبانی کو صدر منتخب کیا گیا جبکہ طالبانی کی اپنی جماعت 'العراقیہ اتحاد' انہیں اس منصب کے لیے منتخب کرنے کی حامی نہیں تھی۔ ایک دوسرے سوال کے جواب میں المالکی کا کہنا تھا کہ کابینہ پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت کی حمایت کے بغیر نہ تو ملک میں ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے اور نہ ہی جنگ کا فیصلہ کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں امن وامان کےقیام کے لیے مسلح افواج جب اور جہاں چاہیں اپنی نقل وحرکت جاری رکھ سکتی ہیں۔ صوبہ کردستان کے پاس بھاری ہتھیار رکھنے یا ٹینکوں اور دیگر اسلحے کے ڈپوؤں پر قبضہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔

عراقی جیلوں میں محروسین پر تشدد سے متعلق ایک سوال کے جواب میں نوری المالکی نے کہا کہ انہیں جیلوں میں قیدیوں سے غیر انسانی سلوک بالخصوص خواتین کو اذیتیں دینے کی خبریں ملی ہیں۔ انہوں نے اس کی روک تھام کے لیے مناسب کارروائی بھی کی ہے اور تشدد کے مرتکب افراد کی گرفتاریوں کے وارنٹ جاری کرائے گئے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ قیدیوں پر تشدد کے مرتکب افراد کو پارلیمنٹ کسی قسم کا تحفظ فراہم نہ کرے اور اعلیٰ عہدیداروں کو حاصل تحفظ ختم کیا جائے۔ وزیر اعظم نے بتایا تفتیش کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ فوج کے چھے سینیئر افسر اور کئی دوسرے اہلکار قیدیوں سے غیر انسانی سلوک کے مرتکب پائے گئے ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

شام جانے والے ہر طیارے کی تلاشی ممکن نہیں

وزیر اعظم المالکی نے دبے الفاظ میں شامی حکومت کی حمایت کی۔ جب ان سے پوچھا گیا کیا وہ شام جانے والے ہوائی جہازوں کی تلاشی لیتے ہیں؟ ان کا جواب تھا کہ شام جانے والی ہر پرواز کی تلاشی لینا ممکن نہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ شامی باغیوں کو اسلحہ فراہم نہ کرے۔ نوری المالکی نے کہا کہ شامی باغیوں کو ملنے والا اسلحہ عراق میں بھی استعمال ہو رہا ہے۔

نوری المالکی نے تصدیق کی کہ انہوں نے حکومتی ترجمان علی الدباغ کو بدعنوانی اور روس کے ساتھ اسلحہ کی ڈیلنگ ناکام بنانے کے الزامات کے تحت عہدے سے ہٹایا ہے۔ ایک صحافی نے پوچھا کہ وزیر اعظم کے فرزند کی کرپشن کہانیاں بھی میڈیا پر آ رہی ہیں تو انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے یا خاندان کے کسی فرد پر ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں ہو سکتی۔