.

ایرانی صدر نے سمدھی کو صدارتی انتخابات کی تیاری کے لیے عہدے سے ہٹا دیا

احمدی نژاد روس کے پوتن اور میدوی ایدف کی راہ پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے اپنے سمدھی اسفند یار رحیم مشائی کو پرنسپل سیکرٹری کے عہدے سے ہٹا دیا ہے تاکہ وہ جون 2013ء میں منعقد ہونےوالے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے بر وقت تیاری شروع کر سکیں۔



ایران میں اصلاح پسندوں کے ہم خیال ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر احمدی نژاد نے حال ہی میں اپنے سمدھی کو سرکاری عہدے سے اس لیے ہٹا دیا تاکہ ان کے لیے آئندہ سال کے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کے لیے تیاری کا موقع فراہم کیا جائے۔

صدر کے اس اقدام پر اصلاح پسندوں کے ترجمان ذرائع ابلاغ نے کڑی تنقید بھی کی ہے۔ مخالف میڈیا نے الزام عائد کیا ہے کہ صدر نژاد سابق روسی صدر پوٹین اور دمتری میدوی ایدف کے نقش قد پر چل رہے ہیں۔ جس طرح سابق صدر پوٹین نے میدوی ایدف کو اپنا جانشین بنایا تھا، اسی طرح محمود احمدی نژاد بھی اسفند رحیم مشائی کو اپنا جانشین بنانا چاہتے ہیں تاکہ ملک میں ان کے خاندان کی اقتدار پر گرفت ڈھیلی نہ پڑنے پائے۔



رپورٹس میں ایوان صدر کے تازہ فیصلے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ صدر احمدی نژاد نے اسفند یار رحیم مشائی کو ان کے عہدے سے سبکدوش کرنے کے بعد ان کی خدمات کو سراہا ہے۔ پرنسپل سیکرٹری کے عہدے سے ہٹا کر اب انہیں غیر وابستہ ممالک کی تحریک کے لیے اپنا خصوصی مشیر مقرر کیا ہے۔ خیال رہے کہ ان دنوں تحریک عدم تعاون کی سربراہی ایران ہی کے پاس ہے۔



اسفند یار رحیم مشائی کی جگہ مشیر برائے سیاحت وثقافت حسن موسوی کو نیا پرنسپل سیکرٹری لگایا گیا ہے۔ حسن موسوی ایک متنازعہ شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور ان کے بعض بیانات بالخصوص اسرائیل کے بارے میں ان کے خیالات ماضی میں سخت ہدف تنقید بن چکے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل مسٹر موسوی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل اور ایران دونوں برادر قومیں ہیں‘‘۔ یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ پچھلے سال صدر محمود احمدی نژاد اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے درمیان اختلافات پیدا کرنے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔



ادھر ایرانی پارلیمنٹ (مجلس شوریٰ) کے اسپیکر علی لاریجانی کے مقرب ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسفند یار رحیم مشائی کو صدارتی امیدوار کے طور پر نامزد کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکن ہے رحیم مشائی کو صدارتی انتخابات میں لڑانے سے روکنے کے لیے دستوری کونسل سے انہیں نا اہل قرار دینے کے لیے رجوع کرنا پڑے۔



چند روز پیشتر ایرانی اخبارات نے رحیم مشائی کا ایک بیان بھی نقل کیا تھا، جس میں انہوں نے صدر محمود احمدی کی ملک کے لیے خدمات کی تعریف کی تھی۔ انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو بھی خوب تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ صدر پیش آئند صدارتی انتخابات میں بھی پوری جرات کا مظاہرہ کریں گے۔ اس سے یہ اشارہ مل گیا تھا کہ مسٹر مشائی پیش آئند سال صدارتی انتخاب لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔



خیال رہے کہ ایران میں عالمی اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئے معاشی بحران کے باعث حکومتی حلقوں میں بھی سخت اختلافات پائے جا رہے ہیں۔ احمدی نژاد کے حامی قدامت پسند اسے سپریم لیڈر کی پالیسیوں جبکہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقربین اسے صدر احمدی نژاد کی ناکامیوں کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔

ایران میں پوتن اور میدوی ایدف ماڈل

صدارتی انتخابات کے قریب آتے ہی ایران کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی ہلچل پیدا ہو چکی ہے لیکن مخالف تیروں کا زیادہ نشانہ موجودہ صدر محمود احمدی نژاد اور ان کے حامی بن رہے ہیں۔

صدر احمد نژاد کا چند ہفتے قبل دیا گیا ایک بیان ھنوز سیاسی حلقوں میں باعث تنقید ہے۔ ستمبر میں ایران کے سرکاری ٹی وی کے ایک نامہ نگار نے صدر احمدی نژاد سے یہ پوچھنے کی جسارت کر لی تھی کہ ان کے پاس حکومت کرنے کے لیے صرف ایک سال باقی بچا ہے۔ وہ اس ایک سال میں ملک کو کس طرح بحران سے نکال لیں گے؟۔ اس پر صدر محترم سخت برہم ہوئے اور صحافی کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ ’’تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ میری حکومت کا صرف ایک سال بچ گیا ہے؟‘‘۔

صدر کے مخالفین کی جانب سے تازہ تنقید کا سبب اپنے سمدھی کو صدارتی انتخابات لڑانے کے لئے تیار کرنا ہے۔ سیاسی حریفوں کا کہنا ہے کہ محمود احمدی نژاد روس میں ولادی میر پوٹن اور میدوی ایدف کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ جس طرح انہوں نے حکومت کو اپنے گھڑے کی مچھلی بنا رکھا اور اپنی باریاں مقرر کر رکھی ہیں۔ صدر احمدی نژاد بھی اپنے بعد اپنے سمدھی کو صدارت کے عہدے تک پہنچانا چاہتے ہیں۔

صدر کے مخالف اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کیمپ کے ایک عہدیدار آیت اللہ محمد رضا مہدوی کنی کا کہنا کہ ہے صدر احمدی نژاد کی حکومت اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ پیش آئند صدارتی انتخابات کے لیے اسی شخص کو نامزد کیا جائے گا جسے حکومتی عہدیداروں کی اکثریت کی حمایت حاصل ہو گی۔ صدارتی انتخابات میں کون کون امیدوار ہوں گے اس کا فیصلہ سپریم لیڈر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تو صدر محمود احمدی نژاد سے بھی سخت نالاں ہیں۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے روکا نہ ہوتا تو ہم آج تک احمدی نژاد کو منصب صدارت سے ہٹا چکے ہوتے۔