.

تیونسمتاثرہ عورت کے حق میں فیصلے کے خلاف پراسیکیوٹر کی اپیل

دو پولیس اہلکاروں کی زیادتی کاشکار خاتون پر نازیبا حرکات کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
تیونس کے سرکاری پراسیکیوٹر نے دوپولیس اہلکاروں کی درندگی کا نشانہ بننے والی عورت کے خلاف غیر شائستہ کردار کا حامل ہونے کے الزام میں مقدمہ چلانے کے لیے عدالت میں اپیل دائر کردی ہے۔

اس خاتون کی وکیل بشریٰ بلحاج حمیدہ نے ایک غیر ملکی خبررساں ادارے کو بتایا ہے کہ ''ہمیں آج سوموار کی صبح یہ پتا چلا ہے کہ پراسیکیوشن نے عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی ہے۔قانونی طور پر یہ ان کا حق ہے۔اس حوالے سے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے''۔

تیونس کے ایک جج نے گذشتہ جمعرات کو عصمت دری کا شکار عورت کے خلاف نازیبا کردار کا کیس ختم کردیا تھا جبکہ دو پولیس اہلکاروں کے خلاف زنا کے الزامات میں مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا اوران کے تیسرے پیٹی بھائی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

پولیس اہلکاروں کی زیادتی کا شکار اس ستائیس سالہ متاثرہ عورت کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔اس کے خلاف اس کے آشنا کے ساتھ نازیبا حرکات کے الزام میں مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ ان ملزم پولیس اہلکاروں نے اپنے بیانات میں کہا تھا کہ انھیں یہ جوڑا اچانک نازیبا حرکات کرتے ہوئے ملا تھا۔ انھوں نے اس عورت کو پکڑنے کے بعد اس کی عصمت دری کی تھی۔

ایک عدالتی ذریعے نے اس سے پہلے بتایا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے اس جوڑے کو ایک کار میں قابل اعتراض حالت میں پکڑا تھا۔ان میں سے دو اہلکار خاتون کو پولیس کار میں کہیں اور لے گئے تھے اوروہاں اس کی آبروریزی کی تھی جبکہ تیسرا پولیس اہلکار اس عورت کے آشنا کو ایک بنک کے کیش پوائنٹ پر لے گیا تھا اور وہاں اس نے ڈرا دھمکا کر اس سے نقدی ہتھیانے کی کوشش کی تھی۔

گذشتہ ماہ ایک میجسٹریٹ نے تین ستمبر کو پیش آئے اس واقعہ کے بارے میں اس متاثرہ عورت سے پوچھ گچھ کی تھی اور اس تفتیش کا مقصد یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا اس عورت پر نازیبا حرکات کے الزام میں مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ تیونس میں نازیبا تعلقات کے جرم میں چھے ماہ تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

تیونس میں اس کیس پر میڈیا اور غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) نے بہت غوغا آرائی کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کو مدعیہ سے ملزمہ بنادیا گیا ہے۔ انھوں نے اس کیس کو حکمراں اسلامی جماعت النہضہ کی خواتین کے بارے میں پالیسی کا آئین دار قرار دینے کی بھی کوشش کی حالانکہ حکمراں جماعت کا ملزم پولیس اہلکاروں کے فعل سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

تیونس کے وزیراعظم حمادی جبالی نے اکتوبر میں ایک بیان میں کہا تھا کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکار گرفتار ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس معاملے میں نازیبا تعلقات کا کیس بھی بنتا ہے۔تاہم صدر منصف مرزوقی نے ریاست کی جانب سے متاثرہ خاتون سےمعافی مانگ لی تھی۔