.

ہلیری کلنٹن کا بشارالاسد کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر سخت انتباہ

شامی علاقے سے گولہ باری کے بعد ترکی کے ایف 16طیاروں کی پروازیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے شامی عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال پرصدر بشارالاسد کی حکومت کو سخت انتباہ جاری کیا ہے۔

ہلیری کلنٹن نے چیک وزیرخارجہ کیرل شوارزن برگ کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ ''شامی عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال امریکا کے لیے سرخ لکیر(ریڈلائن) ہوگا۔ہم ایک مرتبہ پھر اسد رجیم کو سخت انتباہ جاری کررہے ہیں کہ ان کا کردار قابل گرفت ہوگا اور ان کے اپنے ہی عوام کے خلاف اقدامات ایک المیہ ہوں گے''۔

انھوں نے کہا:''میں کسی کو ٹیلی گراف نہیں کرنے جارہی ہوں کہ ہم اسد رجیم کی جانب سے اپنے ہی عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق قابل اعتبار شواہد کی بنا پر ہی کوئی اقدامات کریں گے بلکہ میں یہ کہنا کافی سمجھتی ہوں کہ اگر یہ معاملہ پیش آتا ہے تو ہم یقیناً کارروائی کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔''

درایں اثناء ادھر شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان مختلف شہروں میں لڑائی جاری ہے اور ترکی نے شامی فوج کی ایک سرحدی قصبے پر باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کے بعد اپنے جنگی طیارے سرحدی علاقے میں بھیج دیے ہیں۔



ترکی کے ایک سکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ راس العین میں جیش الحر کے ہیڈکوارٹرز پر شامی فوج کے فضائی حملوں کے بعد جنوب مشرقی شہر دیاربکیر کے ایک فوجی اڈے سے ایف سولہ جنگی طیارے نگرانی کے لیے پروازیں کررہے ہیں۔

گذشتہ روز شامی علاقے سے فائر کیے گئے گولے راس العین کے دوسری جانب واقع ترکی کے قصبے چیلانن پینار میں گرے تھے جس کے نتیجے میں وہاں خوف وہراس پھیل گیا۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ یہ گولے باغی جنگجوؤں اور شامی فوج میں سے کس نے فائر کیے تھے۔

شامی باغیوں نے ایک ماہ قبل ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے راس العین پر قبضہ کرلیا تھا اورسرکاری فوجیوں کو مارگرایا تھا۔اس کے بعد وہاں سے بڑی تعداد میں شامی شہری اپنا گھربار چھوڑ کر ترکی کی جانب چلے گئے تھے۔