.

اسرائیل سے جوہری تنصیبات کے معائنے اور این پی ٹی پر دستخط کا مطالبہ

جنرل اسمبلی میں کثرت رائے سے قرارداد کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کثرت رائے سے ایک قرار داد کی منظوری دی ہے جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسلحہ انسپکٹروں کو اپنے جوہری پروگرام کے معائنے کی اجازت دے اور مشرق وسطیٰ سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے سے متعلق اعلیٰ سطح کی کانفرنس کی حمایت کرے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرار داد کے حق میں ایک سو ترانوے میں سے ایک سو چوہتر ممالک نے ووٹ دیا۔چھے ممالک نے اس کی مخالفت کی اور چھے غیر حاضر رہے۔ اس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بلا تاخیر جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کر دے اور اپنی جوہری تنصیبات کو ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کے لیے کھول دے۔

اسرائیل کے خلاف قرار داد کی مخالفت کرنے والے ممالک میں خود اسرائیل، امریکا، کینیڈا، مارشل آئی لینڈز ،مائیکرونیشیا اور پالاؤ شامل ہیں۔جنرل اسمبلی میں منظور کردہ اس قرار داد کی قانونی طور پر پابندی ضروری نہیں ہے لیکن اس سے اسرائیل مخالف عالمی رائے عامہ کی عکاسی ہوتی ہے اور اس کی ایک اپنی اخلاقی اور سیاسی اہمیت ہے۔

عرب ممالک کا موقف ہے کہ اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں سے خطے کے امن اور استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔صہیونی ریاست کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ خطے کی واحد غی رعلانیہ جوہری قوت ہے لیکن اس نے ابھی تک این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

عرب ممالک نے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک علاقہ قرار دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ اسرائیل مشرق وسطیٰ کی غیر علانیہ جوہری قوت ہے اور اس کے پاس اسی سے سو کے درمیان جوہری وار ہیڈز بتائے جاتے ہیں۔ سن 2010ء میں این پی ٹی پر دستخط کرنے والے ایک سو نواسی ممالک نے 2012ء میں مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک علاقہ قرار دینے کے لیے ایک کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی میں یہ مجوزہ کانفرنس دسمبر کے وسط میں ہونے والی تھی لیکن امریکا نے تئیس نومبرکو اچانک اعلان کیا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے خطے میں اتھل پتھل کی وجہ سے یہ کانفرنس منعقد نہیں ہورہی ہے۔اس کانفرنس میں تمام عرب ممالک اور ایران نے شرکت کا اعلان کیا تھا لیکن اسرائیل کی عدم شرکت کی وجہ سے اس کو ملتوی کردیا گیا ہے۔

اس مجوزہ کانفرنس کے اسپانسر ممالک میں روس ،برطانیہ اور امریکا شامل تھے لیکن امریکا ہی نے اس کانفرنس کو منعقد نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔برطانوی دفتر خارجہ کے وزیر السٹئیر برٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کانفرنس کو ملتوی کیا گیا ہے ،منسوخ نہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جامع امن کے قیام تک این پی ٹی پردستخط نہیں کرے گا کیونکہ اگر وہ اس معاہدے پر دستخط کر دیتا ہے تواسے جوہری ہتھیاروں کی مذمت کرنا ہو گی۔ عرب ممالک کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیل اپنے خفیہ جوہری پروگرام پر عمل جاری رکھتا ہے،اس وقت تک مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔

اسرائیل نے اپنی ابہام کی پالیسی کے تحت اب تک نہ تو اپنے پاس جوہری بموں کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے اور نہ کبھی اس کی تردید کی ہے۔ اس کے بجائے اسرائیل اور امریکا ایران پر یہ الزام عاید کرتے چلے آ رہے ہیں کہ اس کے نیوکلئیر پروگرام سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاٶ کا خطرہ ہے اور وہ خفیہ طور پر جوہری بم تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ایران اس الزام کی تردید کرتا چلا آ رہا ہے۔