.

بشار الاسد نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو دنیا کارروائی کرے گی فرانس

امریکی صدر براک اوباما کا شام کو سخت انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا اور نیٹو کے بعد فرانس نے بھی شامی صدر کو باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال پر سخت انتباہ جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ عالمی برداری اس صورت میں سخت ردعمل جاری کرے گی۔

فرانس کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''شامی صدر بشار الاسد کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ناقابل قبول ہو گا۔ دمشق کے لیڈروں کو جان لینا چاہیے کہ عالمی برادری انھیں دیکھ رہی ہے اور اگر انھوں نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو وہ اپنا ردعمل ظاہر کرے گی''۔

قبل ازیں امریکی صدر براک اوباما نے شامی صدر کو خبردار کیا تھا کہ وہ حزب اختلاف کی فورسز کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال نہ کریں اور اگر انھوں نے ایسا کیا تو اس کے سنگین مضمرات ہوں گے۔

امریکی صدر نے کیمیائی ،حیاتیاتی اور جوہری ہتھیاروں کے ماہرین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''میں بشارالاسد اور ان کے زیرکمان کام کرنے والوں کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ انھیں دنیا دیکھ رہی ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''جوہری ہتھیاروں کا استعمال مکمل طور پر ناقابل قبول ہو گا اور اگر آپ نے ان ہتھیاروں کے استعمال کی الم ناک غلطی کی تو اس کے مضمرات ہوں گے اور آپ قابل احتساب ہوں گے''۔

واضح رہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ میدان جنگ میں باغی جنگجوؤں کی حالیہ پیش قدمی کے بعد بشارالاسد ان کے خلاف جوہری ہتھیاروں کا استعمال کرسکتے ہیں یا کیمیائی ہتھیار امریکا مخالف گروپوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی گذشتہ روز شامی عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال پر صدر بشار الاسد کی حکومت کو سخت انتباہ جاری کیا تھا۔ انھوں نے جمہوریہ چیک کے دورے کے موقع پر کہا کہ ''شامی عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال امریکا کے لیے سرخ لکیر(ریڈ لائن) ہو گا۔ ہم ایک مرتبہ پھر اسد رجیم کو سخت انتباہ جاری کررہے ہیں کہ ان کا کردار قابل گرفت ہوگا اور ان کے اپنے ہی عوام کے خلاف اقدامات ایک المیہ ہوں گے''۔

امریکا نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے پیدا ہونے والی ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے اردن میں خصوصی فوجیوں سمیت ڈیڑھ سو اہلکاروں پر مشتمل ایک ٹاسک فورس متعین کر رکھی ہے اور وہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی صورت میں کسی بھی کارروائی کے لیے تیار ہو گی۔ تاہم ابھی کسی امریکی عہدے دار نے واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ شام کے خلاف فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔