.

شامی حزب اختلاف کا اتحاد اہم پیش رفت ہے سعودی وزیر خارجہ

دوستان شام ممالک کے اجلاس میں سعودی عرب کی شرکت کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے شامی حزب اختلاف کے مختلف دھڑوں کے نئے اتحاد کا خیرمقدم کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک بہت ہی اہم قدم ہے اور بالآخر یہ واقعہ رونما ہو گیا ہے۔

انھوں نے یہ بات دارالحکومت ریاض میں منگل کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ انھوں نے شامی حزب اختلاف کے اتحاد کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا کہ ایک سعودی وفد اسی ماہ کے آخر میں دوستان شام ممالک کے اجلاس میں شرکت کرے گا۔

شامی حزب اختلاف کے نئے اتحاد نے اپنے قیام کے قریباً ایک ماہ کے بعد گذشتہ جمعہ کو قاہرہ میں ایک نئی انتظامی باڈی تشکیل دی ہے۔شامی حزب اختلاف کے نئے اتحاد کو عرب اور یورپی ممالک کی حمایت حاصل ہے اور فرانس، برطانیہ، ترکی اور خلیجی ریاستیں اس کو شامی عوام کے حقیقی نمائندہ ادارے کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔

دوستان شام ممالک کی چوتھی کانفرنس بارہ دسمبر کو مراکش میں منعقد ہو گی۔اس میں شامی صدر بشار الاسد پر دباؤ ڈالنے سے متعلق اقدامات پر غور کیا جائے گا۔شام کی حزب اختلاف کی فورسز کے قومی اتحاد کے علاوہ دوستان شام ممالک کے ایک سو سے زیادہ سنئیر عہدے دار اس میں شرکت کریں گے۔

سعودی وزیرخارجہ نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ ملنے کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ فلسطین سے متعلق اکثریت کے فیصلوں اور اسرائیل کی تاخیری حربے استعمال کرنے کی پالیسی پر بھی غور کرے گی۔