.

اپوزیشن پر اسرائیلی تعاون سے صدر مرسی کے خلاف سازش کا الزام

شکست خوردہ صدارتی امیدواروں کے خلاف مقدمہ درج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصری حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری تناؤ کے جلو میں ایک نیا انکشاف سامنے آیا ہے کہ اپوزیشن نے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت گرانے کے لیے اسرائیلی تعاون سے سازش تیار کی ہے۔ موجودہ احتجاجی تحریک اسی سازش کا حصہ ہے۔ مرسی حکومت کے خلاف اس سازش میں شکست خوردہ صدارتی امیدوار عمرو موسیٰ، ڈاکٹر محمد البرادعی اور حمدین الصباحی سمیت کئی اہم اپوزیشن رہنما شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صہیونی حکام اور دوسرے غیر ملکی ایجنٹوں کی مدد سے صدر مرسی حکومت کے خلاف مبینہ سازش میں شریک اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف عدالت میں مقدمہ قائم کیا گیا ہے جس میں محمد البرادعی، عمرو موسیٰ، حمدین الصباحی، ڈاکٹر سید البدوی اور جسٹس احمد الزند کو فریق بنایا گیا ہے۔ یہ درخواست معروف قانون دان حامد صادق نے دائر کی ہے جسے بعد ازاں مزید انکوائری کے لیے سپریم سیکیورٹی اسٹیٹ کو بھجوا دیا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کچھ عرصہ قبل عمرو موسیٰ نے سابق اسرائیلی وزیر خارجہ ایبسٹپی لیونی سے کسی تیسرے ملک میں ملاقات کی۔ ملاقات میں صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کی خاطر اندرون ملک انارکی پھیلانے، عوام کو اکسانے اور طویل احتجاجی تحریک چلانے کی منصوبہ بندی کی گئی۔

بعد ازاں قاہرہ میں الوفد پارٹی کے ہیڈکواٹرز میں اپوزیشن کے اجلاس میں اس منصوبے پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ حکومت کے خلاف منصوبے کا پہلا قدم آئین ساز اسمبلی کا بائیکاٹ ہو گا۔ بعد ازاں ملک میں امن وامان کی صورت حال خراب کرنے کے لیے انقلابیوں کو اکسایا جائے گا تاکہ صدر محمد مرسی اقتدارچھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔

درخواست گذار نے اٹارنی جنرل سے مقدمے کے تمام اہم فریقین کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ درخواست گذار کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی کئی شخصیات مصر مخالف قوتوں کو اہم قومی راز فراہم کر کے جاسوسی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ان کےخلاف قانون کے تحت سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔