.

تیونس ورکر یونین سیکریٹریٹ پر حملہ، 10 افراد زخمی

حکمران اتحاد کے درمیان سیاسی کھینچا تانی میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
جنرل یونین آف ورکرز تیونس کے دفتر پر بدھ کے روز حملے میں دس افراد زخمی ہو گئے۔ العربیہ ٹی وی نے یونین کے جنرل سیکرٹری کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہ حملہ حکمران جماعت نہضت اسلامی کی ہم خیال تحفظ انقلاب لیگ سے وابستہ افراد نے کیا ہے، تاہم کسی دوسرے آزاد ذریعے سے ان الزامات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ورکر یونین کے جنرل سیکرٹری کے مطابق حملہ کرنے والی ملیشیا تنظمیں جانی پہنچانی ہیں۔ انہوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تصادم کا دروازہ کھلا ہے۔ یونین آفس سے تیونس گورنمنٹ سیکرٹریٹ تک ریلیاں نکالی گئیں۔

ادھر ورکرز یونین کی قیادت نے اپنے دفاتر پر حملے کی مذمت کے لئے ہڑتال کی کال بھی دی ہے

یاد رہے یہ واقعات تیونسی صدر منصف المزوقی کی جماعت کانگریس برائے جمہوریت، تحریک نہضت اسلامی اور دیگر جماعتوں کی قیادت کے مابین شدت اختیار کرتے ہوئے سیاسی بحران کے جلو میں رونما ہو رہے ہیں۔ اس بحران کا سبب صدر المرزوقی کے وہ بیانات بتائے جاتے ہیں کہ جس میں انہوں نے قومی امنگوں کی ترجمان غیر جماعتی مختصر حکومت تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔