.

کشیدگی کے باوجود خلیج کے تنازع پر ایران ۔ امریکا خفیہ بات چیت کا انکشاف

دشمن کو اس کے گھر میں شکست دیں گے: احمدی نژاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران کے حکومتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان سرد جنگ اور کشیدگی کے علی الرغم دونوں ملکوں کے عہدیدار خفیہ بات چیت میں مصروف ہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ بات چیت خلیج کے پانیوں میں ایرانی بحریہ کی نقل وحرکت کے تناظر میں ہو رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیج میں دونوں ملکوں کی فوجوں کی موجودگی سے پیدا ہوئے تنازع پر مختلف چینلز سے بات چیت جاری ہے۔ تاہم ایران نے سرکاری سطح پر ان رابطوں کی سختی سے تردید کی ہے۔

ذرائع نے العربیہ ٹی وی کو بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان خفیہ سفارتی رابطوں کی تاریخ کئی سال پرانی ہے۔ ان رابطوں کے کئی ثبوت موجود ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سنہ 1979ء کے ولایت فقیہ انقلاب کے بعد پہلی مرتبہ 1988ء میں اس وقت ہوئے تھے جب اقوام متحدہ نے عراق ۔ ایران جنگ ختم کرنے کے لیے قرارداد 598 منظور کی تھی۔ دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں کی وجہ سن 88ء میں ایران کے ایک مسافر طیارے کو امریکیوں کے ہاتھوں نشانہ بنائے جانے کے بعد شروع ہوئے۔ اس مسافر جہاز میں 290ا فراد سوار تھے۔ جو تمام جاں بحق ہو گئے تھے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کو ایران کی قومی سلامتی، لبنان اور شام میں امن و استحکام اور جوہری تنازع کے حل کے لیے امریکا سے بات چیت کرنے میں کوئی عار نہیں ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حال ہی میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا ایک خفیہ سفارتی وفد بھی واشنگٹن پہنچا ہے جس نے آئندہ برس ہونے والے ایرانی صدارتی انتخابات کے تناظر میں امریکیوں سے بات چیت۔ ایران کے مقامی ذرائع ابلاغ نے واشنگٹن کا دورہ کرنے والے اس اہم عہدیدار کی بھی شناخت کی ہے اور بتایا ہے کہ ایرانی وفد کی قیادت مرشد اعلیٰ کے مشیر علی اکبر ولایتی نے کی تھی۔

ایران کے قدامت پسند حلقے امریکا کے بارے میں نرم لہجہ اختیار کرنے پر صدر محمود احمدی نژاد پر پہلے نہ صرف عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں بلکہ انہوں نے صدر نژاد پر امریکا کے ساتھ خفیہ مذاکرات کاری کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ احمدی نژاد آئندہ برس جون میں منعقد ہونے والے انتخابات میں اپنے سمدھی اسفند یار رحیم مشائی کو صدارتی انتخابات لڑوانے کے لیے امریکیوں سے رابطے کر رہے ہیں۔

دشمن کو شکست

ادھر ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے انتخابی مہم کے دوران حریف ممالک کو سخت انتباہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو ان کی سرحدوں میں ذلت آمیز شکست سے دوچار کریں گے۔ انہوں نے خلیجی پانیوں میں بحریہ کی نقل وحرکت پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں کہا کہ اگر دشمن اپنی سرحدوں سے باہر نکلا تو ہم ہاتھ پاؤں توڑ کر نہیں بیٹھ جائیں گے بلکہ دشمن کو اس کی اپنی سرحدوں کے اندر پہنچا کر سزا دیں گے۔ ایرانی ٹی وی پر چلنے والے صدر محمود احمدی نژاد کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم [ایرانی] اپنے دشمنوں سے دس گنا قدیم تاریخ کے وارث ہیں جو یہ بات ثابت کرتی ہے کہ ایران نے کبھی دشمن سے شکست نہیں کھائی۔

صدر نژاد کا کہنا تھا: "یہ امکان موجود ہے کہ دشمن اپنی حدود سے باہر قدم رکھتے ہوئے ایران کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے لیکن آخری معرکہ ہم جیتیں گے اور دشمن کو اس کے گھر کے اندر شکست دیں گے۔ ایرانی جوہری پروگرام کے باعث عائد اقتصادی پابندیوں پر بات کرتے ہوئے صدر نژاد نے کہا کہ دشمن پابندیاں لگا کر خود عاجز آ گئے ہیں لیکن وہ ایرانی قوم کا کچھ نہیں بگاڑ سکے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا سابق شاہ کے حامیوں کی حمایت کر کے ان کے ذریعے ایران میں سیکولر نظام لانے کی سازشیں کر رہا ہے لیکن اسلامی جمہوریہ ایران میں اب ظالم بادشاہوں کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی اور نہ ہی قوم ایسے فرسودہ لوگوں کی حکومت تسلیم کرے گی۔