.

افغانستان امن ایلچی کے روپ میں بمبار کا انٹیلی جنس چیف پر حملہ

طالبان مخالف اسداللہ خالد خودکش حملے میں شدید زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
افغانستان کے انٹیلی جنس سربراہ اسداللہ خالد دارالحکومت کابل میں ایک اجلاس کے دوران امن ایلچی کے روپ میں آنے والے خودکش بمبار کے حملے میں زخمی ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق افغان انٹیلی جنس ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کا کابل میں ایک گیسٹ ہاؤس میں اجلاس جاری تھا۔ اس دوران ایک خودکش بمبار طالبان کا افغان حکومت کے لیے امن پیغامبر بن کر آیا اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ یہ واقعہ جمعرات کی سہ پہر تین بجے کے قریب پیش آیا ہے۔

افغان انٹیلی جنس کے ترجمان شفیق اللہ طاہری نے بتایا کہ اسداللہ خالد حملے کے وقت ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔وہ دھماکے میں زخمی ہو گئے ہیں، انھیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی سرجری کامیاب رہی ہے اور اب ان کی حالت بہتر ہے۔

افغان طالبان نے جنگ زدہ ملک کے انٹیلی جنس سربراہ پر خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ گذشتہ سال افغان امن کونسل کے سربراہ پروفیسر برہان الدین ربانی بھی اسی طرح کے خودکش بم حملے میں مارے گئے تھے۔ان پر بھی امن ایلچی کے روپ میں آنے والے خودکش بمبار نے ان کی رہائش گاہ پر حملہ کیا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان عہدے داروں پر دارالحکومت کابل میں اس طرح کے قاتلانہ حملوں سے حملہ آوروں کی ہوشیاری اور چابک دستی سے زیادہ افغان سکیورٹی فورسز اور ان کی پشتی بان غیر ملکی فوجوں کی نالائقی ثابت ہوتی ہے جو دس سال کی جنگ کے بعد بھی افغان دارالحکومت کو محفوظ بنانے میں ناکام رہے ہیں اور طالبان یا دوسرے مزاحمت کار اس شہر میں بڑی آسانی سے اپنے اہداف کو نشانہ بنارہے ہیں۔

واضح رہے کہ افغان پارلیمان نے ستمبر میں اسداللہ خالد کے انٹیلی جنس سربراہ کے عہدے پر تقرر کی منظوری دی تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں افغان انٹیلی جنس ادارے (این ڈی ایس) پر زیرحراست افراد کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزامات عاید کرتی چلی آ رہی ہیں لیکن یہ ادارہ ان الزامات کی تردید کرتا چلا آ رہا ہے۔

اسد اللہ خالد صدر حامد کرزئی کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں اور ان کا طالبان کے بارے میں سخت موقف رہا ہے۔وہ افغان حکومت سے یہ مطالبہ کرتے چلے آئے ہیں کہ طالبان مزاحمت کاروں سے کسی بھی سطح کے مذاکرات میں سخت موقف اپنایا جائے۔اسداللہ خالد شورش زدہ دو جنوبی صوبوں قندھار اور غزنی کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔ اس دوران ان پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک عقوبت گاہ چلانے کا الزام عاید کیا تھا جہاں ان کے بہ قول زیرحراست افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا لیکن انھوں نےا س الزام کی تردید کی تھی۔انھیں افغانستان کے سکیورٹی اداروں میں سب سے موثر افسر گردانا جاتا ہے اور وہ طالبان کی صفوں میں بھی نقب لگانے میں کامیاب رہے ہیں۔ اس وجہ سے انھوں نے مزاحمت کاروں کےخلاف بعض کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔