.

بشار الاسد کیمیائی ہتھیار استعمال نہ کریں بین کی مون کا انتباہ

کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ایک شرمناک جُرم ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے شام کے صدر بشار الاسد کو ایک انتباہی پیغام بھِجا ہے جس میں انھیں خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کےاستعمال سے گریز کریں۔

اقوام متحدہ کے پریس دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق بین کی مون نے تنظیم برائے امتناع کیمیائی ہتھیار کے سربراہ احمد ازمچو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اور انھیں بتایا ہے کہ ''کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ایک شرمناک جُرم ہوگا اور اس کے سنگین مضمرات ہوں گے''۔

بیان کے مطابق سیکرٹری جنرل نے احمد ازمچو کو مطلع کیا کہ:''انھوں نے ایک مرتبہ پھر صدر بشار الاسد کو خبردار کر دیا ہے کہ وہ اس طرح کے ہتھیاروں کو کسی بھی صورت میں استعمال نہ کریں اور شامی حکومت کو ان ہتھیاروں کے ذخیرے کے تحفظ اور سکیورٹی کو یقینی بنانے سے متعلق اس کی بنیادی ذمے داری یاد دلائی ہے''۔

دوسری جانب امریکا اور بعض یورپی ممالک بھی اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ بشار الاسد اقتدار پر اپنی گرفت کمزور پڑنے کی صورت میں مخالفین کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر سکتے ہیں یا یہ ہتھیار ان کے ہاتھ سے نکل سکتے ہیں۔اگر انھوں نے ایسا کیا تو انھیں سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے دو روز پہلے برسلز میں نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد کہا:''شام پر واضح کر دیا گیا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال امریکا کے لیے سرخ لکیر ہو گی''۔نیٹو کے وزرائے خارجہ نے اس اجلاس میں شام سے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پڑوسی ملک ترکی کی سرحد پر پیٹریاٹ میزائل شکن نظام نصب کرنے کی منظوری دی تھی۔

بیالیس ہزار ہلاکتیں

شام میں گذشتہ سال مارچ سے صدر بشار الاسد کے خلاف جاری مسلح عوامی احتجاجی تحریک کے دوران بیالیس ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی میں انتیس ہزار نو سو پچپن عام شہری ،ایک ہزار چار سو چھبیس باغی فوجی اور دس ہزار پانچ سو اکاون سرکاری فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

انھوں نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی میں چھے سو باون مہلوکین کی شناخت معلوم نہیں ہو سکی۔اس طرح اب تک بیالیس ہزار چوراسی افراد گذشتہ اکیس ماہ کے دوران مارے گئے ہیں۔

رامی عبدالرحمان کا کہنا ہےکہ شامی تنازعے کے خاتمے کے بعد ہی مارے گئے افراد کی حقیقی تعداد معلوم ہو سکے گی کیونکہ ابھی تک ہزاروں افراد لاپتا ہیں۔وہ جیلوں میں بند ہیں یا انھیں غائب کردیا گیا ہے اور فی الوقت شامی فوج اور باغی جنگجوؤں اور فوجیوں پرمشتمل جیش الحر میں سے کوئی بھی اپنے مہلوکین کی حقیقی تعداد بتانے کو تیار نہیں۔اس طرح ہر دو فریقوں کو دوسرے فریق سے زیادہ افراد مارے جانے کی صورت میں مورال ڈاؤن ہونے کا خدشہ ہے۔