.

تیونسورکر یونینوں اور اسلامی حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

ٹریڈ یونین کی ملک گیر ہڑتال کی اپیل کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
تیونس میں عرب بہار کی جائے پیدائش شہر سیدی بوزید میں مظاہروں اور احتجاجی ہڑتالوں کے بعد طاقتور لیبر یونین اور حکمران اسلامی جماعت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

سیدی بوزید کے علاوہ تیونس کے دوسرے شہروں قنسرین، سفاکس میں جمعرات کو سرکاری اور غیر سرکاری ورکروں نے ہڑتال کر رکھی ہے اور تمام سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر اور کاروباری مراکز بند ہیں۔ان شہروں میں جنرل یونین آف تیونسی ورکرز (یو جی ٹی ٹی) کی مقامی شاخوں نے ہڑتال کی اپیل کی تھی اور صرف چھوٹی دکانیں اور کیفے ہی کھلے تھے۔

مظاہرین نے تیونس کی مرکزی حکومت اور حکمراں جماعت النہضہ کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔یو جی ٹی ٹی کے کارکنان نے حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ''النہضہ نے تیونس کو بیچ دیا ہے''۔منگل کو چاقوؤں اور لاٹھیوں سے مسلح سیکڑوں اسلام پسندوں نے دارالحکومت تیونس میں یوجی ٹی ٹی کے صدر دفتر پر دھاوا بول دیا تھا اور اس کی کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے تھے۔اس واقعہ کے بعد دونوں دھڑوں نے ایک دوسرے پر تشدد کو ہوا دینے کا الزام عاید کیا ہے۔

یونین نے اس واقعہ کے خلاف احتجاج کے طور پر تیرہ دسمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔مرکزی یونین کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سترہ دسمبر کو تیونس میں انقلاب کی دوسری سالگرہ منانے کی تیاری کی جارہی ہے۔دوسال قبل تیونس میں پھوٹ پڑنے والے انقلاب نے بعد میں مصر ،لیبیا ،یمن اور شام کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

واضح رہے کہ تیونس کے ورکروں کی مرکزی یونین یوجی ٹی ٹی 1940ء کے عشرے میں قائم کی گئی تھی اور اس وقت اس کے اراکین کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے۔آیندہ جمعرات کو اس ٹریڈ یونین کے قیام کے بعد اس کی تیسری ملک گیر ہڑتال ہوگی۔اس نے 1978ء میں پہلی مرتبہ اور12جنوری 2011ء کو دوسری مرتبہ ملک گیر ہڑتال کی تھی اور اس کے دو روز بعد ہی سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی اقتدار چھوڑ کر سعودی عرب بھاگ گئے تھے۔

اسلامی جماعت النہضہ سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم حمادی جبالی کے دفتر نے جمعرات کو ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں ہڑتال کرنے والے ملازمین اور کارکنان پر زوردیا ہےکہ وہ کام پر واپس آجائیں اور مفاہمت کی راہ اپنائیں۔

النہضہ کے سربراہ راشد غنوشی نے یو جی ٹی ٹی پر ملک گیرہڑتال کی اپیل کرنے پر کڑی تنقید کی ہے اور اس پر الزام عاید کیا ہے کہ اس نے سماجی کے بجائے سیاسی محرکات کی بنا پر ہڑتال کی اپیل کی ہے۔

گذشتہ ہفتے کے دوران تیونس کی یونینوں اور اسلام پسند کارکنان کے درمیان رونما ہونے والے پُرتشدد واقعات کے بعد صدر منصف مرزوقی نے کہا تھا کہ مخلوط حکومت عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہے۔انھوں نے کابینہ میں ردوبدل کا مطالبہ کیا تھا لیکن وزیراعظم جبالی نے ان کے بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔صدر نے خبردار کیا تھا کہ تیونس اس وقت دوراہے پر کھڑا ہے۔ان میں ایک شاہراہ تباہی اور دوسری بحالی کی جانب جاتی ہے۔