.

جرمنی 400 فوجی اور پیٹریاٹ میزائل ترکی اور شام کی سرحد پر بھیجے گا

شامی تنازعہ کو ترکی تک پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
جرمن حکومت نے ترکی اور شام کی سرحد پر تعینات کرنے کے لیے چار سو فوجی اور پیٹریاٹ میزائل بھیجنے کی منظوری دے دی ہے اور اس پراب پارلیمان میں بارہ اور چودہ دسمبر کے درمیان رائے شماری ہوگی۔

جرمنی کی وزارت خارجہ اور دفاع نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ''ترکی میں نیٹو کے فضائی دفاعی نظام کی تنصیب ایک خالص دفاعی اقدام اور فوجی سد جارحیت ہے۔اس سے شام میں جاری تنازعے کو ترکی تک پھیلنے سے روکا جا سکے گا''۔

بیان کے مطابق ''میزائلوں کی تنصیب کا مطلب شام کی حدود میں نوفلائی زون کی مانیٹرنگ نہیں ہے یا ان کو کسی اور مقصد کے لیے بھی استعمال نہیں کیا جائے گا''۔

نیٹو کے وزرائے خارجہ نے منگل کو برسلز میں اپنے اجلاس میں ترکی کی درخواست پر اس کی شام کے ساتھ واقع سرحد پر پیٹریاٹ میزائلوں کو نصب کرنے کی منظوری دی تھی۔اس موقع پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس راسموسین نے کہا کہ اتحاد کا فیصلہ اپنے رکن ممالک کی سکیورٹی کے لیے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

جرمنی کی وزارت خارجہ اور دفاع نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ''ترکی اس وقت شامی تنازعے سے سب سے متاثرملک ہے اور اسے شام کی جانب سے خطرہ لاحق ہے۔پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کو نیدرلینڈز اور امریکا کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے نصب کیا جائے گا''۔

درایں اثناء شام کے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے باغی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے اور ان کے درمیان ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی جھڑپیں ہورہی ہیں۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق بدھ کو سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں ایک سو چار افراد مارے گئے تھے۔

دمشق کے نواحی علاقے الزہرا میں ایک کار بم دھماکا ہواہے۔شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق کار بم دھماکا انجمن ہلال احمر کے دفتر کے باہر ہوا ہے اور اس میں ایک شخص ہلاک ہوگیا اور قریبی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔تاہم آزاد ذرائع نے اس واقعہ میں کسی کی ہلاکت کی اطلاع نہیں دی۔