.

عراق مزار میں دھماکے اور اہم مذہبی شخصیات کے قتل کی سازش ناکام

ملزمان کا بابل میں بم حملوں کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق میں سیکیورٹی حکام نے شدت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے 30 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ اپنے اعترافی بیان میں ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ شمالی بغداد میں بابل کے مقام پر امام علی کے مزار میں بم دھماکا اور نجف میں الشیخ علی السیستانی سمیت کئی دیگر اہم مذہبی شخصیات کو قتل کرنے چاہتے تھے۔

عراقی میڈیا نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ دہشت گردی کی اس خطرناک سازش میں ملوث شدت پسندوں کا تعلق ’امارت اسلامیہ عراق‘ نامی گروپ سے ہے جو کئی دوسرے شہروں میں بھی فرقہ وارانہ اختلاف کی بنیاد مخالفین کے قتل اور عبادت گاہوں میں دھماکے کرنا چاہتے تھے۔

امارت اسلامیہ عراق کے ذیلی گروپ اسامہ بن لادن بریگیڈ، ولایت الجنوب اور الفتح المبین ماضی میں ملک کے اندر دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں۔ ان گروپوں سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں شدت پسند گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بابل میں امام علی کے مزار کے باہر انتہا پسندوں کو بم نصب کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ بابل سے پکڑے جانے والے دہشت گردوں کی نشاندہی پر جبور، جابیہ النیل، جفر الصخر اور البحیرات میں چھاپے مارے گئے جہاں سے مزید شدت پسند گرفتار کئے گئے ہیں۔

ترکی کے راستے جنگجوؤں کی شام آمد

ادھر عراقی ضلع دیالی کے انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبہ کُردستان کے راستے ترکی جانے والے مسلح جنگجوؤں کی آخری منزل شام ہوتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کردستان اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے یہ جنگجو باغیوں کی صفوں میں شامل ہو کر صدر بشار الاسد کے خلاف لڑتے ہیں۔

عراقی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار جنگجوؤں نے بتایا کہ مختلف ملکوں سے آمد کے بعد کردستان اور ترکی سے گذرنے کے اس طویل راستے کو اپنی مخصوص خفیہ اصطلاح میں ’’کمپاس وے‘‘ کہتے ہیں اور شام جانے میں دلچسپی رکھنے والوں کو کسی ملک کا نام بتانے کے بجائے انہیں کمپاس وے کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ حکام نے پچھلے کچھ عرصے کے دوران کئی شدت پسندوں کے اہم کمانڈروں کو دیالی اور دوسرے علاقوں سے گذرتے ہوئے حراست میں لیا ہے۔