.

اسدر جیم نے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی تیاری نہیں کیبین کی مون

شام میں جاری ہلاکتوں کے بعد ہم آنکھیں بند نہیں کر سکتے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے کہا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تیاریوں سے متعلق کوئی مصدقہ رپورٹ نہیں ملی۔

انھوں نے یہ بات ترکی کے سرحدی علاقے میں شامی مہاجرین کے ایک کیمپ کے دورے کے موقع پر کہی ہے۔انھوں نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ''اگر اسد رجیم نے شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو یہ ایک شرمناک جرم ہوگا اور اس کے سنگین مضمرات ہوں گے''۔

بین کی مون نے جمعرات کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''اگر شامی صدر کی حکومت نے اپنے ہی عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا''۔

انھوں نے کہا کہ ''میں نے اس حوالے سے شامی حکومت سے اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور چند روز قبل میں نے صدر بشار الاسد کے نام ایک خط بھی بھیجا تھا جس میں انھیں خبردار کیا گیا تھا کہ وہ خطرناک ہتھیاروں کے استعمال سے گریز کریں''۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ''اگر کسی بھی صورت میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں تو پھر جو کوئی بھی اس کا ذمے دار ہوگا،اس کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور اس صورت میں ان لوگوں کے لیے سنگین مضمرات ہوں گے''۔ دوسری جانب شامی حکومت بار بار یہ بات بالاصرارکہہ چکی ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کرے گی۔

بین کی مون نے ترکی کے سرحدی قصبے اصلاحیہ کے نزدیک واقع شامی مہاجرین کے کیمپ زاتاری کے دورے کے موقع پر شام میں امن اور خانہ جنگی سے متاثرہ شہریوں کو فوری انسانی امداد مہیا کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔انھوں نے کہا کہ''جب لوگ مصائب کا شکار اور مررہے ہیں تو اس صورت حال میں ہم اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتے ہیں''۔

انھوں نے شامی تنازعے کے تمام فریقوں اور خاص طور پر صدر بشار الاسد کی حکومت پر زوردیا کہ وہ تشدد کا خاتمہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں پانچ لاکھ سے زیادہ شامی اپنا گھربار چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں جاچکے ہیں اور بیس لاکھ سے زیادہ اندرون ملک دربدر ہیں۔انھوں نے بتایا کہ وہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی کے ساتھ ملک کر شام میں پُرامن انتقال اقتدار کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔

دمشق کا ہوائی اڈا فوجی ہدف

درایں اثناء شام میں صدر بشار الاسد کی سکیورٹی فورسز کے خلاف بر سر پیکار باغی جنگجوؤں نے دارالحکومت دمشق کے ہوائی اڈے کو فوجی علاقہ قرار دے دیا ہے اور شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس طرف جانے سے گریز کریں۔انھوں نے وہاں اترنے والے طیاروں کو بھی خبردار کیا ہے۔

باغی فوجیوں اور جنگجوؤں کی دمشق فوجی کونسل کے ترجمان نبیل الامیر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''باغیوں کے بریگیڈز نے ہوائی اڈے کا محاصرہ کر رکھا ہے اور گذشتہ روز اس کو ایک فوجی ہدف قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا''۔ان کے بہ قول وہاں فوجی گاڑیاں اور جنگجو موجود ہیں اور شہری ہوائی اڈے کی جانب سے گریز کریں۔فوجی کونسل نے دمشق کے دوسرے علاقوں میں بھی باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان جھڑپوں کی اطلاع دی ہے۔