.

جنوبی سوڈان کی حکومت کا نقاد صحافی اور بلاگر قتل

نامعلوم مسلح افراد کی گھر میں گھس کر فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
جنوبی سوڈان میں حکومت کے نقاد صحافی اور بلاگر کو اس کے گھر میں گولی مار کر قتل کردیا گیا ہے۔

مقتول کے خاندان کی اطلاع کے مطابق نامعلوم افراد نے ایک ہفتہ قبل بلاگر ڈینگ چن عول کو دھمکی دی تھی کہ وہ حکومت کے خلاف لکھنے کا سلسلہ ختم کردیں، ورنہ انھیں قتل کردیا جائے گا۔

مقتول کے بھائی ولیم چن نے ایک غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ ''ان کے بھائی کو فون پر دھمکیاں دی گئی تھیں اور فون کرنے والوں نے کہا تھا کہ وہ یا تو لکھنا چھوڑ دے نہیں تو اسے جان سے ماردیا جائے گا''۔

جنوبی سوڈان کی پولیس نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے بدھ کی صبح بلاگر کو اس کے گھر میں گھس کر چہرے پر فائرنگ کی تھی۔پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تفتیش شروع کردی گئی ہے اور پولیس کو ابھی تک قتل کے محرکات یا قاتلوں کی شناخت کا سراغ نہیں لگ سکا ہے۔

مقتول صحافی آن لائن اخبارات میں جنوبی سوڈان کی حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے تھے اوربعض ویب سائٹس پر بلاگ لکھتے تھے۔

جنوبی سوڈان کی گذشتہ سال جولائی میں سوڈان سے علاحدگی اور الگ وطن بننے کے بعد کسی صحافی کے قتل کا یہ پہلا واقعہ ہے۔اس سے پہلے جنوبی سوڈان کی سکیورٹی سروسز کی جانب سے صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے ،ہراساں کرنے اور حراست میں لینے کی شکایات تو سامنے آتی رہتی تھیں لیکن کسی صحافی کی جان نہیں لی گئی تھی۔

جنوبی سوڈان کے حکام نے اس سے پہلے صدر سلفاکیر پر تنقید کی پاداش میں ایک اخبار کو بند کردیا تھا۔اس اخبار نے صدر کو اپنی بیٹی کو ایک غیرملکی سے شادی کی اجازت دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

مقتول صحافی نے پیرس میں قائم سوڈان ٹرائبیون کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی اپنی آخری تحریر میں صدر سلفاکیر کی حکومت پر زوردیا تھا کہ وہ (شمالی) سوڈان کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنائے اور وہاں علاحدگی پسندوں کی حمایت سے گریز کرے۔

خرطوم حکومت جنوبی سوڈان پر اپنی دو سرحدی ریاستوں میں باغیوں کی حمایت کرنے کے الزامات عاید کرتی چلی آرہی ہے جبکہ جنوبی سوڈان کی حکومت اس حقیقت سے انکار کرتی ہے اور اس نئے ملک کے اخبارات بھی بالعموم حکومت کے موقف ہی کی ترجمانی کرتے رہتے ہیں۔

نیو یارک میں قائم کمیٹی برائے تحفظ صحافیاں نے جنوب سوڈان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافی کے قتل کے واقعے کی تحقیقات کرکے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔

کمیٹی کے مشرقی افریقہ کے لیے کنسلٹینٹ ٹام رہوڈز کا کہنا ہے کہ ''جنوبی سوڈان کی اقتصادی صورت حال بگڑنے کی طرح پریس کی آزادی بھی انحطاط پذیر ہے اور اس نئے ملک کی حکومت ابھی تک تنقید سننے کی عادی نہیں ہوئی اور وہ عدم رواداری کا مظاہرہ کررہی ہے''۔

واضح رہے کہ فرانس میں قائم صحافیوں کے حقوق کی علمبردار تنظیم ''صحافیان ماورائے سرحد''(رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز) نے اپنے 2011ء اور2012ء کے آزادیٔ صحافت سے متعلق اشاریے میں جنوبی سوڈان کو ایک سواناسی ممالک کی فہرست میں ایک سو گیارویں نمبر پر رکھا تھا۔