.

تیونس مزدور یونین کی ہڑتال کال غیر اسلامی قرار

سلفی عالم دین کا فتوی قرآن و سنت پر مبنی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
تیونس میں سلفی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے سرکردہ عالم دین نے مزدور یونین کی جانب سے 13 دسمبر کو ملک گیر ہڑتال کے خلاف فتوی دیتے ہوئے اس 'جرم' قرار دیا ہے۔

علامہ بشیربن حسین نے اپنے خطبہ جمعہ میں فتوی دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان ملک میں ہڑتال کی کال سے ترقی، معیشت اور معاشرے کا پہیہ رک جاتا ہے۔ یہ ایک مجرمانہ کارروائی ہے۔

العربیہ سے بات کرتے ہوئے بن حسین نے بتایا ان کا فتوی قرآنی آیات اور سنت نبویہ سے ثابت شدہ ہے جن میں کسی ملک میں فساد پیدا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیونس کے آئمہ اور خطباء بھی ان سے اتفاق کریں گے جس کے بعد ہمیں تیونس کی سب سے بڑی مزدور یونین کو ہڑتال کی کال واپس لینے پر آمادہ کرنے میں آسانی ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہڑتال میں شرکت کی پاداش میں تمام آجر اپنے اجیروں کو ملازمت سے نکال باہر کریں تو ملک کا نظام معطل ہو جائے گا۔ٍ

یہ فتوی حکمران جماعت کے ہم خیال گروپ اور لیبر یونین اتحاد کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان جھڑپوں کے خلاف بطور احتجاج لیبر یونین نے ہڑتال کی کال دے دی۔ یاد رہے کہ ہڑتال کی کال ایسے وقت میں دی گئی ہے کہ تیونس کے مستقبل کے حوالے سے ملک میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں بیرون سے ہیلری کلنٹن سمیت متعدد سرکاری شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔