.

شام میں غذائی بحران؛ شہری مضر صحت خوراک کھانے پر مجبور

روٹی مہنگی اور بلیک مارکیٹ میں فروخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام میں گزشتہ 21 ماہ سے جاری لڑائی کے باعث عوام ہمہ نوع مصیبتوں میں مبتلا ہیں۔ عوام کی جانیں، مال اور گھر بار محفوظ نہیں۔ انہیں پینے کے صاف پانی اور خوراک کی بھی شدید قلت کا سامنا ہے۔ جنگ زدہ شہروں میں مقامی آبادی زائد المیعاد خوراک اور آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ فاسد مواد کا استعمال بھوک و پیاس ختم کرنے کے بجائے ان میں موذی امراض پھیلانے کا موجب بن رہے ہیں۔



بشار الاسد کی وفادار فوج کے سخت محاصرے کی وجہ سے انسانی حقوق کے کارکنوں کو متاثرہ افراد تک رسائی نہیں مل رہی۔ سب سے زیادہ پریشان کن صورحال باغیوں کے زیر کنٹرول بڑے شہر حمص کی ہے جسے سرکاری فوج نے گزشتہ چھے ماہ سے مکمل محاصرے میں رکھے ہوئے ہے۔ فوج کی اجازت کے بغیر کوئی چیز شہر میں آ سکتی اور نہ ہی شہریوں کو علاقے سے باہر جانے کی اجازت ہے۔ ابتر سیکیورٹی صورت حال کے باعث مقامی آبادی زائد المیعاد خوراک اور مضر صحت پانی اور کچی سبزیاں کھا کر گذر اوقات کر رہے ہیں۔

حمص سے انسانی حقوق کے کارکن ابو خالد نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ ہم لوگ زائد المیعاد آٹے سے بنی روٹی کھانے پر مجبور ہیں۔ خوراک کی کمیابی کے ساتھ پانی کا بھی ایسا ہی بحران ہے کیونکہ صاف پانی فراہم کرنے والی پائپ لائنز کٹ چکی ہیں اور شہری جوہڑوں کا پانی پینے پر مجبور ہیں۔

مضر صحت غذاء

انسانی حقوق کے ایک اور کارکن ابو بکر نے حمص شہر کی ناگفتہ بہ صورت حال کے بارے میں بتایا کہ یہاں دستیاب خوراک شہریوں کے لئے صحت افزاء ہونے کے بجائے زہر ثابت ہو رہی ہے کیونکہ زائد المیعاد آٹے کی بنی روٹیاں کھانے اور آلودہ پانی پینے سے شہری معدے، پیٹ، پھیپھڑوں، جگر اور جلدی امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔ ابو بکر نے بتایا کہ شہری خشک ٹماٹر، کچی سبزیاں، گھاس پھوس اور درختوں کے پتے کھانے پر مجبور ہیں۔ سب سے زیادہ پریشان کن صورت حال شیر خوار بچوں کی ہے جو زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔

ادھر دمشق کے مضافاتی علاقے داریا میں گھر گھر کی تلاشی کے دوران فوجی کھانے پینے کی اشیاء تک شہریوں سے چھین رہے ہیں۔ ابو کنعان نامی ایک شہری نے داریا سے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہم شہر کی ایک بڑی آٹا چکی سے آٹا خرید کیا کرتے تھے لیکن آج اس پر بھی سرکاری فوج کا قبضہ ہے، ہم اس کے قریب بھی نہیں جا سکتے ہیں۔ ابو کنعان نے بتایا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مقامی آبادی کے لیے آٹا بھیجا گیا تو اسد نواز فوجیوں نے وہ قبضے میں لے لوگوں کے سامنے اسے ضائع کر دیا۔

دمشق کے جنوب مشرقی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایک ٹیکسی ڈرائیور نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں شہر کے تندروں سے روٹی میسر نہیں ہو سکتی کیونکہ یہاں پر روٹیاں صرف اس شخص کو دی جاتی ہیں جو صدر بشار الاسد کے ساتھ اپنی وفاداری کا عہد کرتا ہے۔ ٹیکسی ڈرائیور محمد نے بتایا کہ انہیں بعض اوقات دو یا تین گھنٹوں کے طویل انتظار کے بعد ایک یا دو روٹیاں دی جاتی ہیں۔ میں اکثر رات کے وقت یہاں روٹی لینے کے لیے لائن میں کھڑا ہوتا ہوں تاکہ دن کو اپنا کام کر سکوں۔ اس نے بتایا کہ ان کے علاقوں میں اب روٹی بھی بلیک میں فروخت کی جاتی ہے، کئی بار میں نے بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں سے پندرہ لیرا میں پندرہ روٹیاں خرید کی ہی لیکن بعض مقامات پر پچاس لیرا کی بھی پندرہ روٹیاں دستیاب نہیں ہیں۔

باغیوں کے زیر اثر حلب شہر کی صورت حال بھی دیگر شہروں سے مختلف نہیں۔ وہاں کے ایک شہری ابو سامر نے بتایا کہ شہر میں پہلے تو تندروں پر روٹی دستیاب نہیں۔ اگر کہیں سے مل رہی ہے تو اس کی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ لوگ خریدنے کی قوت نہیں رکھتے کیونکہ بعض مقامات پر ایک روٹی کی قیمت دو سو لیرا تک جا پہنچتی ہے۔ ابو سامر نے بتایا کہ خوراک کی اس شدید قلت نے شہریوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے کیونکہ لوگوں کی دن بھر کی جمع پونجی سے چند روٹیاں بھی نہیں