.

کویتی عالم دین خالد الحسینان ڈرون حملے میں جاں بحق

سن 2007ء کو خاندان سمیت افغانستان منتقل ہو گئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
کویتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کے معروف عالم دین اور مبلغ خالد الحسینان دو روز قبل امریکی ڈرون طیارے کے ایک حملے میں جاں بحق ہو گئے، تاہم اس بات کی وضاحت نہیں ہو سکی کہ آیا ان کے ساتھ دیگر افراد بھی تھے یا وہ اکیلے ہی امریکی حملے کا نشانہ بنے۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق کویت کے مشہور عالم دین پانچ برس قبل افغانستان گئے تھے۔

کویتی شہری خالد بن عبدالرحمان الحسینان المعروف ابو زید الکویتی نے اپنی زندگی القاعدہ کے نظریات اور افغان جنگ کی ترویج کے لئے مخصوص کر رکھی تھی۔

علامہ الحسینان کویت کی متعدد مساجد میں امام اور خطیب کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ ملک میں موجودگی کے دوران وہ اپنے خطبات میں کھلے عام مغرب کے خلاف جنگ پر اکسایا کرتے تھے۔ ان کی رائے میں لڑائی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔

سن 2007ء میں الحسینان کویت میں اپنا گھر بار فروخت کر کے اپنے خاندان اور چند ساتھیوں سمیت لڑائی کے لئے افغانستان منتقل ہو گئے تھے، جہاں وہ جلد ہی القاعدہ میں شمولیت کے بعد اس کے سپاہی کے طور پر مغربی اہداف کے خلاف جنگ میں مصروف ہو گئے۔ وہ القاعدہ مخالفین سے لڑائی کی تلقین کیا کرتے تھے۔

افغانستان میں اپنی موجودگی کے دوران الحسینان نے اعلان کیا تھا کہ وہ عرب اور خلیجی نوجوانوں کو بھرتی کر کے القاعدہ کے شانہ بشانہ جنگ کے افغانستان بھجوائیں گے۔ نیز وہ ان نوجوانوں کو تنظیم کے حکم پر کسی بھی جگہ معرکہ آرائی کو بھیج سکتے ہیں۔