.

کیمیائی اسلحہ نہ استعمال کرنے کا شامی دعوی تصاویر نے جھٹلا دیا

حلب میں بچوں اور خواتین جھلسے چہرے دیکھے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ میں سیکیورٹی کونسل کے چیئرمین اور جنرل سیکرٹری کے نام الگ الگ خطوط میں یقین دہانی کرائی ہے کہ 'دمشق کے پاس اگر کیمیائی ہتھیار موجود بھی ہوئے تو انہیں استعمال نہیں کیا جائے گا۔'

شام میں بڑھتے ہوئے کیمیائی اسلحہ بحران کے تناظر میں انسانی حقوق کے رضاکاروں نے حلب کی السفیرہ میونسپلٹی پر شامی فوج کی بمباری سے متاثرہ بچوں اور خواتین تصاویر جاری کی ہیں جن میں ان کے چہرے جھلسے ہوئے ہیں۔

جیش الحر کے اعلان کے مطابق تنظیم کے جنگجوؤں نے شامی فوج کے کیمیائی اسلحہ کی سپلائی چھین لی ہے جسے ملک کے مختلف علاقوں میں شہریوں کے خلاف استعمال کے لئے بھیجا گیا تھا۔

شامی خبر رساں ایجنسی 'سانا' کے ذریعے جاری کردہ حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کسی صورت بھی کیمیائی اسلحہ استعمال نہیں کرے گا۔ دمشق اپنے عوام کو امریکی سرپرستی میں جاری دہشت گردی سے بچانے کے لئے کوشاں ہے۔

ادھر دمشق وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں بیرونی حمایت یافتہ سرگرم دہشت گرد کیمیائی اسلحہ استعمال کر سکتے ہیں۔ اس گروپ نے خاص طور پر زہریلی کلورین گیس تیار کرنے والی فیکٹری پر قبضہ کیا ہے، جہاں سے حاصل ہونے والی زہریلی گیس کو عام شہریوں کے خلاف کیا جا سکتا ہے اور بعد میں اس کا الزام جیش الحر کے سر تھوپ دیا جائے گا۔

بیان کے مطابق حلب کے مشرق میں زہریلی کلورین گیس کارخانے پر نامعلوم افراد کے کنڑول کے بعد عالمی برادری کا صورتحال میں بہتری کے لئے حرکت میں نہ آنا قابل مذمت ہے۔