.

اسد رجیم کی کشتی ہچکولے کھا رہی ہے جرمن خفیہ ایجنسی

شامی حکومت کے خاتمہ سے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
جرمنی کی غیر ملکی امور کی ذمے دار خفیہ ایجنسی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا بچنا اب محال نظر آ رہا ہے لیکن ابھی یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ رجیم حتمی طور پر کب گھٹنے ٹیک دے گا۔

جرمنی کی فیڈرل انٹیلی جنس سروس کے سربراہ جیرہارڈ شینڈلر نے اتوار کو ایک اخباری انٹرویو میں کہا کہ ''شامی تنازعہ اب اپنے انجام کی جانب بڑھ رہا ہے اور وہ آخری مرحلے میں ہے''۔

ان کا کہنا ہے کہ ''شام کی سرکاری فوج کے خلاف بر سر پیکار مسلح گروپوں کے درمیان بہتر رابطے کی وجہ سے انھیں جنگی محاذوں پر نمایاں کامیابیاں ملی ہیں۔ بشار الاسد اور ان کے اتحادیوں کا صرف دمشق جیسے علاقوں تک کنٹرول محدود ہو کر رہ گیا ہے اور شامی فوج زمینی کارروائیوں کے بجائے اب صرف فضائی قوت پر ہی انحصار کر رہی ہے''۔

واضح رہے کہ شامی فوج گذشتہ کئی روز سے دمشق اور اس کے نواحی علاقوں میں باغی جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کر رہی ہے اور ملک کے بیشتر شمالی شہروں پر وہ کنٹرول کھو چکی ہے۔اس نئی صورت حال کے پیش نظر ان خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ شامی حکومت اقتدار ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر سکتی ہے۔

لیکن شامی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام ایک خط میں انھیں اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ عوام کے خلاف خطرناک ہتھیار استعمال نہیں کیے جائیں بلکہ اس نے الٹا باغیوں کے بارے میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ شمالی شہر حلب میں ایک گیس فیکٹری پر انھوں نے قبضہ کر لیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے دو روز پہلے کہا تھا کہ انھیں شامی صدر کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تیاریوں سے متعلق کوئی مصدقہ رپورٹ نہیں ملی۔ انھوں نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ''اگر اسد رجیم نے شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو یہ ایک شرمناک جرم ہو گا اور اس کے سنگین مضمرات ہوں گے''۔