.

ایران کے دو جنگی بحری جہاز سوڈان کی بندرگاہ پر لنگر انداز

اسرائیل کو تشویش لاحق ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران کے دو جنگی بحری جہاز سوڈان کی ایک بندرگاہ پر ہفتے کے روز لنگرانداز ہوئے ہیں۔

ایرانی بحریہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چودہ سو ٹن وزنی جماران اور چار ہزار سات سو ٹن وزنی بوشہر جہاز کامیابی سے پورٹ سوڈان پر لنگرانداز ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے انھوں نے بحیرہ احمر میں اپنی سرگرمیوں میں حصہ لیا تھا۔ بندرگاہ پر سوڈانی بحریہ کے کمانڈروں نے ان کا خیرمقدم کیا۔

بیان میں یہ نہیں بتایا کہ دونوں جنگی بحری جہاز کتنی دیر تک سوڈانی بندرگاہ پر رکے رہیں گے۔ خرحوم حرکت نے اس کو معمول کی کارروائی قرار دیا ہے جبکہ اسرائیلی حکام نے ایرانی جہازوں کی آمد پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے ذریعے سوڈان کو اسلحہ اسمگل کیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی حکام سوڈان پر یہ الزام بھی عاید کرتے چلے ہیں کہ وہ غزہ کی حکمراں اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے لیے ایک بیس بن چکا ہے اور انھیں وہاں سے اسلحہ مہیا کیا جا رہا ہے۔

سوڈانی فوج کے ترجمان سوارمی خالد سعد نے اس سے پہلے تیس نومبر کو ایرانی جہاز پورٹ سوڈان میں لنگر انداز ہونے کی اطلاع دی تھی۔ انھوں نے گذشتہ جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور فوجی تبادلے کا حصہ ہیں اور دونوں جہاز تین دن تک رکے رہیں گے۔ اکتوبر کے آخر میں بھی دو ایرانی بحری جہاز پورٹ سوڈان پر لنگر انداز ہوئے تھے اور دو دن تک وہاں رکے رہے تھے۔

واضح رہے کہ تئیس اکتوبر کو سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے نواح میں واقع ایک فوجی فیکٹری پُراسرار فضائی حملے میں تباہ ہو گئی تھی۔ سوڈان نے اسرائیل پر اس فضائی حملے کا الزام عاید کیا تھا اور اسرائیل کی جانب سے یہ قیاس آرائی کی گئی تھی کہ وہاں ایرانی ہتھیار تیار یا ذخیرہ کیے جا رہے تھے۔

اسرائیل نے سوڈانی فیکٹری پر حملے سے متعلق تمام الزامات کو مسترد کر دیا تھا اور ایک اسرائیلی عہدے دار آموس گیلاد نے کہا تھا کہ سوڈان مصر کے راستے غزہ میں حماس اور دوسری مزاحمتی تحریکوں کو ایرانی اسلحہ مہیا کر رہا ہے اور ایران نے حماس کو فجر پنجم میزائل مہیا کیے تھے۔ ان میں سے بعض حالیہ جنگ کے دوران فلسطینییوں نے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کی جانب بھی فائر کیے تھے۔

سوڈان نے یرموک اسلحہ فیکٹری، حماس اور ایران کے درمیان تعلق کے حوالے سے اسرائیلی الزامات کو مسترد کر دیا تھا اور اسرائیل پر یہ الزام عاید کیا تھا کہ وہ من گھڑت افواہیں پھیلا رہا ہے۔