.

بشار نواز بس ڈرائیور کا وینزویلا کی کرسی صدارت پر متمکن ہونے کا امکان

صدر شاویز سرطان کے لاعلاج مرض میں مبتلا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے وزیر خارجہ نیکولاس مادورو کو اپنا خلفیہ نامزد کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ صدارتی انتخاب کی صورت میں مادورو کو ووٹ دیں۔ ہوگو شاویز کا یہ اعلان اس بات کی دلیل سمجھا جا رہا ہے کہ وہ سرطان کے لاعلاج مرض میں مبتلا ہیں۔

صدر شاویز تین ہفتوں تک پس پردہ رہنے کے بعد 27 نومبر کو منظر عام پر آئے۔ انہوں نے بتایا کہ سرطان کے مرض سے شفایابی کے بعد انہیں دوبارہ یہ مرض لاحق ہو گیا ہے جس کے علاج کی خاطر وہ کیوبا گئے، جہاں انہوں نے دس دن قیام کیا۔ گزشتہ جمعہ کو وہ وطن واپس لوٹے۔ مقامی ٹی وی 'وی ٹی وی' پر ان کی وطن واپسی کے مناظر میں انہیں اپنے وزیر خارجہ کی معیت میں جہاز کی سیڑھیاں اترتے دکھایا گیا۔ شاویز کے وزیر خارجہ نیکولاس مادورو شامی صدر کے لئے اپنی حمایت کی وجہ سے بہت مشہور ہیں۔

ہوگو شاویز نے چھے ماہ قبل کیوبا میں شعاوؤں کے ذریعے سرطان کا علاج کرایا۔ اس علاج سے انہیں افاقہ ہوا تھا۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس 2011 میں شاویز کو سرطان کا مرض لاحق ہوا جس کے بعد علاج کی غرض سے ان کے دو آپریشنز ہو چکے ہیں۔

وینزویلا کے صدر نے پچاس سالا مادورو کو سنہ 2006ء میں اپنا وزیر خارجہ اور پھر اکتوبر میں اپنی صدراتی کامیابی کے بعد انہیں نائب صدر مقرر کیا۔ تاہم گزشتہ روز اپنے خطاب میں صدر شاویز نے مادورو کو اپنا خلیفہ نامزد کرتے ہوئے عوام پر زور کہ اگر سرطان کے مرض کی وجہ سے وہ اپنے فرائض سرانجام دینے کے قابل نہ رہے تو ایسے میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخاب میں وہ نیکولاس مادورو کو ووٹ دیں۔ شاویز کی اس وصیت نما سیاسی تقریر سے ان کی بگڑتی ہوئی صحت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

نیکولاس مادورو ماضی میں بس ڈرائیور تھے۔ ان کی تعلیم بھی واجبی سی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مادورو صرف پرائمری پاس ہیں تاہم وہ ٹریڈ یونین کے شعبے میں بہت سرگرمی دکھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے 70 اور 80 کی دہائی میں اپنی سیاسی زندگی کا آغاز غیر سرکاری ٹریڈ یونین لیڈر کے طور پر کیا۔ وہ کارکس کی انڈر گراؤنڈ ریلوے یونین کے رہنما تھے۔

مادورو اپنی شام نواز تقاریر کے لئے ملک میں خصوصی طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اگست میں ایک بیان میں خبردار کیا کہ بڑی طاقتیں شام میں مداخلت سے باز رہیں۔ ایران میں ہونے والے غیر وابستہ تحریک اجلاس میں انہوں نے اپنے ملک کے چوبیس رکنی وفد کی سربراہی کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ شام میں غیر ملکی مداخلت روکی جائے تاکہ عوام اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کر سکیں۔