.

سائبر حملے میں سعودی معیشت کو ہدف بنایا گیا آرامکو

بیرون سے تعلق رکھنے والے ہیکروں نے منظم حملہ کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کا کہنا ہے کہ اگست میں اس کے نیٹ ورکس پر سائبر حملے میں نہ صرف اسے بلکہ پوری ملکی معیشت کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ اور آرامکو نے مل کر سرکاری کمپنی کے نیٹ ورکس پر''شمعون''نامی وائرس کی دراندازی کی تحقیقات کی ہے اور اس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ہیکروں نے یہ سائبر حملہ کیا تھا۔

کمپنی کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ عبداللہ السعدان نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ''سائبر حملے میں صرف آرامکو کے ادارے کو نشانہ نہیں بنایا گیا تھا بلکہ ملک کی مکمل معیشت پر حملہ کیا گیا تھا''۔ ان کے بہ قول اس حملے کا مقصد سعودی عرب کی ملکی اور عالمی مارکیٹ کے لیے تیل اور گیس کی پیداوار کو روکنا تھا۔

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان جنرل منصور الترکی کے مطابق مشترکہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ''مملکت سے باہر مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک منظم گروپ نے یہ سائبر حملہ کیا تھا''۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ''یہ تحقیقات کے مفاد میں ہے کہ اس کے نتائج کو ظاہر نہ کیا جائے''۔ان کا کہنا تھا کہ ''آرامکو کے ملازمین یا ٹھیکے داروں میں سے کوئی بھی ہیکنگ کے اس واقعہ میں ملوث نہیں تھا''۔

واضح رہے کہ آرامکو نے 27 اگست 2012ء کو یہ اطلاع دی تھی کہ ''شمعون نامی وائرس کے حملے کے بعد اس کے الیکٹرانک نیٹ ورک کو محفوظ بنا دیا گیا ہے اور اس کا نیٹ ورک معمول کے مطابق کام کررہا ہے''۔ اس سے پہلے 15 اگست کو سعودی آرامکو کے کمپیوٹر نیٹ ورک پر وائرس کے حملے کے بعد تحقیقات کے لیے کمپنی کی ویب سائٹ کو بند کر دیا گیا تھا۔

تب آرامکو کے جاری کردہ بیان میں یہ اطلاع دی گئی تھی کہ شمعون کے حملے سے متاثر ہونے والے نیٹ ورک کو وائرس سے پاک کر دیا گیا تھا۔ اس وائرس کے حملے سے کمپنی کے تیس ہزار کمپیوٹرز کو نقصان پہنچا تھا اور اس کی پچاسی فی صد ڈیوائسز کے ہارڈوئیر تباہ ہو گئے تھے۔

اس وقت یہ بتایا گیا تھا کہ تحقیقات میں محض قیاس آرائیاں ہی سامنے آئی ہیں اور اس وائرس کی بنیاد کے بارے میں کوئی ٹھوس حقائق سامنے نہیں لائے جا سکے۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ وائرس کی اصلیت سے متعلق زیر گردش افواہوں کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کرے گی۔

آرامکو نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وائرس سے انتظامی سرگرمیوں اور پیداوار پر کوئی فرق نہیں پڑا تھا اور اس سے صرف ذاتی ورک اسٹیشنز ہی متاثر ہوئے تھے۔