.

سوڈان تصادم میں جاں بحق طلباء کے علامتی جنازے اٹھا کر احتجاج

خرطوم پولیس نے درجنوں طلباء اور سماجی کارکن گرفتار کر لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
دارفور سے تعلق رکھنے والے چار طلباء کے سوڈانی پولیس سے تصادم میں ہلاکت کے بعد دارالحکومت خرطوم میں سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ ہفتے کے روز پولیس نے دارالحکومت خرطوم میں الجزیرہ یونیورسٹی کے کیمپس پر چھاپہ مار کر کم سے کم پچیس طلباء کو حراست میں لے لیا۔ دوسری جانب جامعہ کے طلباء نے اپنے ساتھیوں کے مبینہ قتل کے خلاف آج [سوموار] احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ مظاہروں کے دوران مقتول طلباء کے علامتی جنازے اٹھا کر خرطوم کےخلاف احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔



خیال رہے کہ حال ہی میں خرطوم کے شہر مدنی میں قائم النیلین یونیورسٹی میں جنوبی سوڈان سے تعلق رکھنے والے طلباء اور سیکیورٹی حکام کے درمیان تصادم ہوا جس میں کم سے کم چار طلباء مارے گئے تھے۔ واقعے کے بعد خرطوم کی کئی جامعات اور تعلیمی اداروں کے طلباء نے سخت احتجاج کیا ہے۔ طلباء تنظیموں نے النیلین یونیورسٹی کے طلباء کے قتل میں پولیس کو قصور وار قرار دیا ہے۔



ادھر ہفتے کے روز وسطی سوڈان کے شہر مدنی میں الجزیرہ یونیورسٹی کے طلباء اور طالبات نے ایک ریلی نکالی۔ اس ریلی میں بھی طلباء نے اپنے مقتول ساتھیوں کا علامتی جنازہ اٹھا رکھا تھا۔ پولیس اور سیکیورٹی حکام نے طلباء کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا اور کم سے کم پچیس افراد کو حراست میں بھی لے لیا ہے۔ محروسین میں مختلف سماجی تنظیموں کے نو کارکن بھی شامل ہیں، جنہیں خرطوم میں العمارات پولیس سینٹر میں رکھا گیا ہے۔ اسی تفتیشی مرکز میں دارفور سے تعلق رکھنے والے میں کئی طلباء اور انسانی حقوق کے کارکن پہلے بھی بند ہیں لیکن ان کی جانب سے ضمانتیں ملنے کے باوجود حکام رہائی میں ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔