.

افغانستان نامعلوم افراد کی فائرنگ سے خاتون اہلکار جاں بحق

واقعہ مشرقی صوبے لغمان میں پیش آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
افغانستان کے مشرقی صوبے لغمان میں نامعلوم مسلح افراد نے خواتین امور کی ایک اہلکار کو پیر کے روز قتل کر دیا ہے۔ یہ واقعہ مقتولہ کی پیش رو کی چند ماہ قبل ایک بم دھماکے میں ہلاکت کے بعد پیش آیا ہے۔فوری طور پر کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

لغمان پولیس کے سربراہ احمد شہرزاد نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ ہم نے تفتیش کے لئے جائے وقوعہ کو سیل کر دیا ہے اور جلد ہی حملہ آور کو گرفتار کر لیں گے۔

مقتولہ نادیہ صدیقی نے امسال جولائی میں بم دھماکے میں ماری جانے والی اپنی پیش رو حنیفہ صفی کی جگہ چارج سنبھالا تھا۔ حنیفہ اپنی گاڑی میں نصب مقناطیسی بم پھٹنے سے جان بحق ہوئی تھیں۔

ابھی تک کسی گروپ نے نادیہ صدیقی پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن کابل کی مغرب نواز حکومت کے خلاف طالبان جنگجو ٹارگٹ کلنگ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہتے ہیں۔

دسمبر کے آغاز میں لغمان سے متصل کییسیا صوبے میں ایک سکول طالبہ کو ہیتلھ ورکر ہونے کے شبے میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

گذشتہ جمعرات کو طالبان امن ایلچی کا روپ دھار کر ایک خود کش بمبار کابل کے سخت سیکیورٹی والے علاقے میں گیسٹ ہاؤس میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا جہاں اس نے اپنے زیر جامہ میں چھپائے بم کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں افغان انٹیلی جنس کے سربراہ زخمی ہو گئے تھے۔