.

بحرینی ولی عہد کی اپوزیشن کو مذاکرات کی پیش کش کا خیر مقدم

بالمشافہ مذاکرات کے ذریعے ہی پیش رفت ممکن ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
بحرین کی حزب اختلاف نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی پیشگی شرط کے بغیر ارباب حکومت سے مل بیٹھنے کو تیار ہیں لیکن اس ملاقات کے حاصلات پر استصواب رائے کرایا جانا چاہیے۔

بحرین کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن حمد بن عیسیٰ الخلیفہ نے جمعہ کو منامہ میں مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس میں حزب اختلاف کو مذاکرات کی پیش کش کی تھی اور کہا تھا کہ بالمشافہ مذاکرات کے ذریعے ہی حقیقی پیش رفت کی جا سکتی ہے۔

بحرین کی حزب اختلاف کی ایک بڑی جماعت وفاق نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لینے کو تیار ہے لیکن ان میں کیے جانے والے فیصلوں کی عوامی ریفرینڈم میں منظوری حاصل کی جانی چاہیے۔

تاہم اس گروپ کے لیڈر شیخ علی سلمان کا کہنا ہے کہ ریفرینڈم مذاکرات کے آغاز کی شرط نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے لیے ہمارا بالکل واضح نقطہ نظر ہے کہ ہم غیر مشروط طور پر حکومت سے مذاکرات کو تیار ہیں اور حکومت سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ بھی ایسا کرے گی۔

بحرینی حزب اختلاف کے دوسرے گروپوں نے بھی حکومت کی جانب سے مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان جماعتوں کی جانب سے حکومت سے مذاکرات کے عمل میں کون ،کون شریک ہوگا۔

واضح رہے کہ بحرین کے حکمران شاہ حمد نے گذشتہ سال حزب اختلاف کو کسی پیشگی شرط کے بغیر مذاکرات کی پیش کش کی تھی مگر وفاق ہی نے مذاکرات سے انکار کر دیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس کے نقطہ نظر کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

شہزادہ سلمان نے جمعہ کو اپنی تقریر میں تمام سیاسی شخصیات پر زور دیا تھا کہ وہ گلیوں، بازاروں میں ہونے والے تشدد کی مذمت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حکام سے بالواسطہ رابطے میں ہیں لیکن انھیں اس بات کی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ یہ بات چیت کب ہوگی۔

حالیہ دنوں میں بحرین کی حکومت اور حزب اختلاف دونوں نے ہی اپنے اپنے موقف میں نرمی پیدا کی ہے اور ولی عہد شہزادہ سلمان نے عدالتی اصلاحات پر جانفشانی سے کام کرنے اور تمام بحرانوں کو پولیس نظام میں یکساں مواقع دینے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

گذشتہ جمعہ کو وفاق کے لیڈر نے منامہ میں احتجاجی ریلی کے دوران شاہ اور حکمران خاندان کے خلاف نعرے بازی کرنے والے مظاہرین کی سر زنش کی تھی۔ واضح رہے کہ بحرینی حکام نے اب مظاہروں پر پابندی لگا رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے محاذآرائی کی صورت ہی نتیجہ نکلتا ہے اور بحرینی حکام نے اکتیس کارکنان کی شہریت بھی منسوخ کردی تھی۔اس واقعہ کے بعد حزب اختلاف نے ایک بیان میں حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ شہریوں کے خلاف طاقت کے بے مہابا استعمال سے باز آ جائیں۔