.

امریکا نے شامی تنظیم جبهة النصرة کو دہشت گرد قرار دے دیا

اسلامی جنگجو گروپ پر عراق میں القاعدہ سے تعلق کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا نے شام کے ایک جنگجو گروپ جبهة النصرة کو القاعدہ سے تعلق کے الزام میں غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کو ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں شام میں اسلامی ریاست کے قیام کی علمبردار جنگجو تنظیم کو عراق میں القاعدہ کے ساتھ وابستہ قرار دیا گیا ہے۔

محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ''سیکرٹری آف اسٹیٹ اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ عراق میں القاعدہ جبهة النصرة سمیت اپنے اتحادیوں کو استعمال کر رہی ہے یا کر چکی ہے اور اس امر کو تسلیم کرنے کی ٹھوس وجوہ موجود ہیں''۔

جبهة النصرۃ کو بلیک لسٹ کرنےکے بعد اب امریکی حکام اس گروپ یا اس کے ارکان کے امریکا میں اثاثوں کو منجمد کر سکیں گے اور امریکی شہری اس شامی تنظیم کی کوئی مدد بھی نہیں کر سکیں گے۔

اس تنظیم پر شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے دوسرے دھڑے بھی غیر امتیازی حربے استعمال کرنے کے الزامات عاید کر چکے ہیں اور اس نے خود دارالحکومت دمشق اور دوسرے علاقوں میں عوامی مقامات پر خودکش بم حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ ان حملوں میں شامی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے علاوہ عام شہری بھی مارے گئے تھے۔

واضح رہے کہ امریکی حکام شام میں سخت گیر اسلامی جنگجوؤں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ وہ انھیں انتہا پسند اور جہادی عناصر قرار دیتے ہیں لیکن گذشتہ روز امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ شامی فوج کے خلاف بر سر پیکار باغی جنگجوؤں کو جبهة النصرۃ کے سخت جان جانبازوں کی بدولت ہی میدان جنگ میں حالیہ کامیابیاں نصیب ہوئی ہیں اور وہ شام کے شمالی علاقوں میں تیزی سے صدر بشار الاسد کی وفادار فوج کے مقابلے میں پیش قدمی کر رہے ہیں۔