.

بعد از اسد سول حکومت ہوگی، باغی جرنیل اقتدار نہیں چاہتے

شام میں بم حملوں اور جھڑپوں میں 200ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف جنگ آزما جنگجوؤں اور فوجیوں کی نئی کمان کونسل کے سربراہ بریگیڈئیر سلیم ادریس کا کہنا ہے کہ ''باغی جرنیل اقتدار کے خواہاں نہیں بلکہ وہ سول عبوری حکومت کے قیام کی حمایت کریں گے''۔

انھوں نے یہ بات برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ ''فوجی لوگ بشارالاسد کی رخصتی کے بعد اقتدار پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے ہیں بلکہ ہم ایک قومی فوج کی تشکیل چاہتے ہیں اور ہم سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے''۔

انھوں نے باغیوں کو طیارہ شکن اور ٹینک شکن ہتھیاروں سمیت اسلحہ مہیا کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس ضمن میں کوئی جلدی نہیں ہے بلکہ ہم حزب اختلاف کی عبوری حکومت کے قیام کے منتظر ہیں جو خود ہتھیار خرید کرسکے اور ایک سول وزیردفاع ضابطہ کار کے تحت ہتھیار خرید کرسکے گا۔

درایں اثناء لندن میں مختلف ممالک کے فوجی سربراہان کا اجلاس ہوا ہے اور اس میں شامی تنازعے اور باغیوں کو تربیت دینے کے علاوہ ان کی فضائی اور بحری امداد سے متعلق امور پر غور کیا گیا ہے۔

برطانوی اخبار انڈی پینڈینٹ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی مسلح افواج کے سربراہ ڈیوڈ رچرڈز نے لندن میں فرانس ،ترکی ،اردن ،امریکا ،متحدہ عرب امارات کی عسکری قیادت سے ملاقات کی تھی۔اس میں شامی بحران پر غور کیا گیا تھا۔ تاہم ایک سفارتی ذریعے نے اس اطلاع کو مسترد کردیا ہے کہ اس اجلاس میں شام میں فوجی مداخلت کی تجویز پر غور کیا گیا تھا۔

شام میں ہلاکتیں

درایں اثناء شام میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور منگل کو ملک کے مختلف علاقوں میں سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں اور بم دھماکوں میں کم سے کم دوسو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق وسطی صوبے حماہ کے ایک گاؤں عقرب میں پے درپے بم حملوں کے نتیجے میں ایک سو پچیس شہری مارے گئے ہیں۔ان مقتولین کا صدر بشارالاسد کے فرقے علوی سے تعلق بتایا گیا ہے۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ ہم یہ بات نہیں جانتے کہ ان حملوں میں کس گروپ کا ہاتھ کارفرما ہے لیکن اگر باغیوں نے یہ حملے کیے ہیں تو ان کی علویوں کے خلاف سب سے بڑی انتقامی کارروائی ہے۔انھوں نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے اور کہاہےکہ ہم ایک آزاد اور جمہوری شام چاہتے ہیں اور ایسا شام نہیں چاہتے جہاں فرقہ وارانہ منافرت پائی جاتی ہو۔