.

مالی میں فوجی بغاوت کے بعد وزیر اعظم مستعفی

فوجیوں کا وزیر اعظم ہاؤس پر دھاوا، مودیبو دیارا گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مالی کے وزیر اعظم شیخ مودیبو دیارا نے فوجیوں کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

مالی کے سرکاری ٹی وی چینل او آر ٹی ایم نے منگل کو وزیر اعظم کی ایک مختصر تقریر نشر کی ہے جس میں اپنی حکومت کے مستعفی ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔ تاہم انھوں نے اپنے استعفیٰ کی کوئی وجہ بیان نہیں کی۔

قبل ازیں مالی کے مستعفی وزیر اعظم کے ایک قریبی ذریعے نے اطلاع دی تھی کہ انھیں دارالحکومت باماکو کے نواح میں واقع فوجی چھاؤنی قطی سے تعلق رکھنے والے قریباً بیس فوجیوں نے گرفتار کر لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں فوجی سربراہ کیپٹن عمادو سانوگو نے وزیر اعظم کو گرفتار کرنے کے لیے بھیجا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق گرفتاری کے لیے آنے والے فوجی وزیر اعظم کی رہائش گاہ کےدروازے کو توڑ کے اندر گھس گئے اور وہ انھیں زبردستی کھینچ کر لے گئے۔ دوسری جانب مالی کی فوج کے سابق ترجمان کا کہنا ہے کہ مودیبو دیارا کی گرفتاری کے بعد ان کا استعفیٰ فوجی بغاوت نہیں ہے بلکہ بہت جلد نئے وزیر اعظم کی نامزدگی کا اعلان کیا جا رہا ہے۔

سابق فوجی ترجمان باقری مریکو نے فرانس کے 24 ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ کوئی نئی فوجی بغاوت نہیں بلکہ ملک کے صدر نئے وزیر اعظم کے نام کا اعلان کرنے والے ہیں''۔

مودیبو دیارا کو اس سال مارچ میں فوجی جنتا کی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کے بعد عبوری دور کے لیے وزیر اعظم نامزد کیا گیا تھا۔ اس فوجی بغاوت کے بعد مالی کے نصف حصے پر سخت گیر اسلامی جنگجوؤں نے اپنا کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور انھوں نے مالی کے شمالی علاقے میں شریعت نافذ کر دی ہے۔

مالی کے مستعفی وزیر اعظم دیارا ایک معروف آسٹرو فزیسٹ ہیں اور وہ امریکا کے خلائی تحقیق کے ادارے ناسا کے متعدد خلائی پروگراموں کے لیے کام کر چکے ہیں۔ وہ افریقہ میں مائیکرو سوفٹ کے چئیرمین بھی رہے ہیں۔ وہ منگل کو اپنے طبی معائنے کے لیے پیرس روانہ ہونے والے تھے اور ان کا سامان بھی طیارے پر لادا جا چکا تھا لیکن سامان اچانک اتار دیا گیا اور اس کے بعد انھوں نے پیرس جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔